حماس: فلسطینیوں کا قتل، عرب اردن میں مزاحمت کے عزم کو نہیں توڑ سکتا
فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کا قتل، مزاحمت کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔
تحریک حماس کے ایک رہنما نے غرب اردن میں ایک فلسطینی کی شہادت پر اس علاقے میں صہیونی حکومت کے جرائم اور قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات فلسطینیوں میں خوف پیدا کرنے کے بجائے مزاحمت سے ان کی وابستگی کو مزید مضبوط کریں گے۔
اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنماؤں میں سے ایک عبدالرحمن شدید نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صہیونی حکومت کی فوج نے پری پانچ اکتوبر کی دوپہر کو الخلیل کے جنوب میں واقع شہر یطا سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ "محمود ہانی ادعیس” کو الخلیل صوبے میں "بنی نعیم” قصبے کے داخلی راستے پر شہید کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ یہ اقدام غرب اردن میں فلسطینی عوام کے خلاف صہیونی حکومت کے جرائم میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے اور اس طرح کے جرائم کبھی بھی فلسطینیوں کو مزاحمت کا راستہ جاری رکھنے اور غاصبوں کے مقابلے میں ڈٹے رہنے سے نہیں روک سکیں گے۔
شدید نے ادعیس اور غزہ پٹی اور غرب اردن میں شہید ہونے والے دیگر فلسطینیوں کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ غاصب حکومت کی دہشت گردی، فلسطینی عوام کے عزم کو توڑنے یا انھیں جبری نقل مکانی کے سامنے سر جھکانے، اپنے جائز حقوق سے دستبردار ہونے اور اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطین کی سرزمین اور اس کے مقدسات کے خلاف ظالمانہ پالیسیاں اور غاصبوں کارروائياں، مزاحمت کو کمزور کرنے کے بجائے، اپنے حقوق اور سرزمین کے دفاع کے لیے فلسطینیوں کی استقامت اور عزم میں مزید اضافہ کریں گی۔



