◷

نئی جنگ کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی

5 اکتوبر 2026

جنرل عبداللّہی:ایران کے خلاف نئی جنگ کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ خطے میں امریکا کے ميزبان ممالک جان لیں کہ اگر ایران کے خلاف نئی جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کی آگ انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی

جنرل عبداللّہی نےایک پیغام جاری کرکے کہا ہے کہ خداوند عالم کے فضل، ہمارے مولیٰ امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی عنایات اور عوام کی حمایت ،شہید رہبر انقلاب اسلامی کے خلف صالح کی حکیمانہ اور شجاعانہ قیادت، عوام کی خادم حکومت کی انتھک کوششوں اور مسلح افواج کی مجاہدتوں  کے نتیجے میں، مقدس ایرانی نظام کے خلاف امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کی مسلط کردہ جنگیں ناکام ہوچکی ہیں اور آزاد وخود مختار ماہرین کے مطابق امریکا کے خبیث صدر اور دہشت گرد صیہونی گینگ کو مختلف بحرانوں کا سامنا ہے۔

انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اطلاعات ملی ہیں کہ جارحین،ایک بار پھر اس جھوٹ کا سہارا لے کرکہ ایران ایٹمی اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور زیادہ کمزور حالت میں ہے، دوبارہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں۔

ایران  کی مسلح افواج کے سربراہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل نکات عرض ہیں:

کسی بھی آزاد انسان سے پوشیدہ نہیں ہے  اور سب کو اقرار ہے کہ ایرانی قوم کئی ہزارسالہ تمدن کی  مالک ہے اور ہمیشہ آزاد، خود مختار، ظلم  کی مخالف اور عدل وانصاف کی طرفدار  اور اسلام کی برکت سے ولایت سے وابستہ، صاحب استقامت اور ظلم کے مقابلے میں مظلوم کی حامی اور نصرت الہی  نیز ظالمین پر حتمی کامیابی پر یقین کی مالک رہی ہے اور راہ عزت میں کسی بھی ظالم اور منھ زور کے مقابلے میں پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔      

   2۔ صیہونی تخریب کار گینگ، جس کی 80 سالہ تاریخ، لوٹ مار، قتل وغارتگری اور جارحیت پر استوار ہے، اس نے اندازے کی غلطی سے اور اس خام خیالی کے تحت کہ ایران کمزور ہے، ایران کے خلاف بڑے شیطان کے گرین سگنل پر 12 روزہ جںگ مسلط کی  اور اس کے بعد امریکا کے خیرہ سر صدر کو ورغلا کر، جنگ رمضان کا آغاز کیا۔ لیکن جںگ شروع ہونے کے چند ہی روز بعد، ایران کی مسلح افواج کے کاری اور سنگین واروں کے نتیجے میں مجبور ہوکر، جنگ روکنے کی درخواست کی اور اس کے بعد اس جنگ سے جو خود اس نے شروع کی تھی، نکلنے کی راہ تلاش کرنے لگی۔  ان دونوں جنگوں سے نہ صرف یہ کہ غاصب حکومت اور مقبوضہ فلسطین کے غیر قانونی ساکنین کوکسی بھی قسم کی سیکورٹی اور تحفظ نہ مل سکا، بلکہ اس حکومت کے غاصب حکام کی کمزوری، نالائقی اور بدعنوانی اس طرح آشکارا ہوگئی کہ اس کی پردہ پوشی ممکن نہیں رہی۔ ہمیں یقین ہے کہ خبیث صیہونی حکومت کبھی بھی طاقتور ایران کے مقابلے کی تاب نہیں لاسکتی اور اگر کسی بھی وجہ سے دوبارہ اندازوں کی غلطی سے دوسری جنگ شروع کی تو ایرانی عوام اور مسلح افواج کے جوانوں کے خشم الہی کی بجلی ان کی سبھی آرزوئیں خاک میں ملادیں گی۔
 
 3۔ امریکا کے خود فریبی ميں مبتلا صدر کو جان لینا چاہئے کہ   ایران امریکی کانگریس کے نتائج کا منتظرہرگز نہیں ہے بلکہ یہ امریکی عوام ہیں جو اشتیاق کے ساتھ اس بات کے  منتظر ہیں کہ ٹرمپ کی دروغ بیانیوں کا جواب صدارتی الیکشن میں دیں۔ دوسرے یہ کہ انتخابات سے پہلے یا انتخابات کے بعد، اس  کا نتیجہ چاہے جو بھی ہو، اگر بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کے ورغلانے پر ایران اسلامی کے خلاف کوئی اقدام کیا تو، ایران کی مسلح افواج بلاتاخیر، پوری طاقت سے کسی محدودیت کے بغیر بالکل اسی طرح  امریکی اہداف پر حملہ کریں گی جو وہ جنگ رمضان میں دیکھ چکا ہے۔   
 4۔  خطے میں امریکا کے میزبان ممالک بھی جان لیں کہ علاقے میں بدامنی  اور اقتصادی مشکلات کا بنیادی عامل علاقے  میں دہشت گرد امریکی فوج کا وجود ہے اور جب تک امریکی فوج   موجود رہے گی علاقے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ جان لیں کہ اگر ایران کےخلاف نئی جنگ شروع ہوئی تو سبھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

اسی طرح صیہونی حکومت کے دہشت گرد سربراہ کا ایک علاقائی ملک کے دورے میں یہ اعلان کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، اولا اس کا توہم ہے اور دوسرے  اس کا مقصد ڈرانا اور ایران کو خطرہ ظاہر کرنا ہے۔ ہوشیار رہیں،  ایران کے ایٹمی پروگرام کے پر امن ہونے کی سبھی تصدیق کرچکے ہیں، اس جرائم پیشہ حکومت کے جس کے پاس متعدد ایٹمی ہتھیار موجود ہیں سربراہ کی جانب سے اس میں پیشرفت کا دعویٰ نہ صرف یہ کہ قابل قبول نہیں ہے، بلکہ بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑانا بھی ہے جن کی اس نے کبھی کوئی پابندی نہیں کی ہے۔  

 5۔ ہم بین الاقوامی اداروں بالخصوص جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کو خبردار کرتے ہیں کہ بھیڑ کے لباس میں بھیڑیئے کا کردار ترک کردیں اور ایران کے ایٹمی مراکز کے خلاف بے بنیاد نظریات کے اظہار سے پرہیز کریں۔

6۔آخر میں یاد دہانی کرادیں کہ ایران اسلامی پہلے سے کہیں زیادہ طاقت وتوانائی کے ساتھ ہر دھمکی اور خطرے کا، چاہے جس نوعیت اور سطح کا بھی ہو، نصرت الہی  پر یقین کے ساتھ، مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے