◷

ناگویا میں ایران کی قومی روئنگ ٹیم کے حیرت انگیز کارنامے

3 اکتوبر 2026

ایشین گیمز2026، ناگویا میں ایران کی قومی روئنگ ٹیم کے حیرت انگیز کارنامے

 ناگویا میں ایران کی قومی روئنگ ٹیم نے 6 میڈل جیت کر تاریخ رقم کردی

  ایشین گیمز 2026 میں اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی روئنگ ٹیم نے 6 میڈل جیت کر روئنگ فیڈریشن کے چیئرمین کا وعدہ پورا کردیا

 ناگویا میں ایشین گیمز 2026 میں ایران کی قومی روئنگ ٹیم نے دو سونے، تین چاندی اور ایک کانسی پر مشتمل 6 تمغے حاصل کئے اور اس طرح قومی روئنگ ٹیم کے ارکان نے فیڈریشن کے چیئرمین محسن شادی کا وہ وعدہ پورا کردیا جو انھوں نے  اس سال کے ایشین گیمز شروع ہونے سے پہلے کیا تھا۔

 محسن شادی نے کہا کہ ہم چھے تمغے حاصل کریں گے اور ہم نے نوجوانوں کے  امور اور کھیل کود کے وزیر سے وعدہ کیا ہے کہ دو سونے کے تمغے حاصل کریں گے۔

  ایشین گیمز2026 میں ایرانی ٹیم کے ارکان نے روئنگ کے آٹھ شعبوں میں شرکت کی اور بے نظیر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، سبھی آٹھ شعبوں کے فائنل میں پہنچ گئے۔

ایران کے روئنگ کے کھلاڑیوں میں بہمن نصیری سے توقع کی تھی کہ ایک میڈل ضرور حاصل کریں گے لیکن وہ اس توقع پر پورے نہیں اترسکے۔

وہ گروپ مقابلوں میں، 6 منٹ اور 58 پوائنٹ 70 سیکنڈ میں معینہ فاصلہ طے کرکے، فائنل میں پہنچ گئے لیکن فائنل میں، 7 منٹ اور 18 اعشاریہ 49 سیکنڈ میں چھٹی پوزیشن  حاصل کرسکے۔

 دوسری طرف فاطمہ مجلل نے خواتین کے  لائٹ ویٹ سنگل پیڈل روئنگ مقابلے میں،7 منٹ اور 24 اعشاریہ 57سیکنڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی  اور ایشین گیمز میں روئنگ ميں خواتین کا پہلا سونے کا تمغہ حاصل کرکے تاریخ رقم کردی۔

انھوں نے ہیوی ویٹ سنگل مقابلے میں 7 منٹ اور 35 اعشاریہ 99 سیکنڈ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ انھوں نے ہانگژو ایشین گیمز میں خواتین کے چاررکنی روئنگ مقابلے میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

  فاطمہ مجلل نے ناگویا ایشین گیمز میں خواتین  کے روئنگ میں سونے کا تاریخی تمغہ حاصل کرنے کے بعد کہا کہ ایشین گیمز کی تاریخ میں روئنگ میں ایرانی خواتین کی ٹیم نے اب تک سونے کا تمغہ حاصل نہیں کیا تھا۔ میں پہلی خاتون کھلاڑی ہوں جس نے ایشیائی کھیلوں میں روئنگ کا پہلا سونے کا میڈل حاصل کیا ہے۔  

 انھوں نے کہا کہ میں نے یہ طلسم توڑنے اور ایشین گیمز میں روئنگ میں سونے کا تمغہ حاصل کرنے والی پہلی ایرانی روئنگ کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے کے لئے بہت محنت کی۔

ایشین گیمز 2026 میں خواتین کے روئنگ کے دورکنی مقابلے میں،   ایران کی زینب نوروزی اور کیمیا زارعی نے 6 منٹ اور 53 اعشاریہ 93 سیکنڈ می پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ جبکہ ہانگژو ایشین گیمز میں زینب نوروزی اور مہسا جاور پر مشتمل ایران کی خاتون روئنگ کھلاڑیوں کے دو رکنی گروپ نے دوسری پوزیشن اور چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

ناگویا ایشین گیمز میں ایران کی خاتون روئنگ ٹیم کی مہسا جاور، سہا فخری، ساقی ملکی اور ہنگامہ کامیاب پر مشتمل 4 رکنی گروپ نے 6 منٹ اور 27 اعشاریہ 24 سیکنڈ میں، دوسری پوزیشن اور چاندی کا تمغہ حاصل کرلیا۔

 ایران کی خواتین کی  قومی روئنگ ٹیم نے ہانگژو ایشین گیمز میں بھی چار رکنی روئنگ میں 6 منٹ اور 51 اعشاریہ 82 سیکنڈ میں دوسری پوزشین اور چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

 ایران کی چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والے چار رکنی  روئنگ گروپ کی رکن مہسا جاور نے ناگویا ایشین گیمز میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد کہا کہ انھوں نے یہ چوتھی بار ایشین گیمز میں حصہ لیا ہے اور دوبار چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ اس بار بہت خواہش کی تھی کی سونے کا تمغہ حاصل کرسکیں لیکن یہ خواہش نہ پوری ہوسکی۔  

  ایشین گیمز 2026 کے مردوں کے لائٹ ویٹ سںگل  مقابلے کے فائنل میں، ایران کے امیر حسین محمود پور نے 6 منٹ اور 52 اعشاریہ 59 سیکنڈ میں دوسری پوزیشن اور چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

انھوں نے ہانگژو ایشین گیمز میں 7 منٹ اور 23 اعشاریہ 97 سیکنڈ میں چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی اور  پہلی بار ناگویا ایشین گیمز میں تغمہ  حاصل کیا ہے۔

امیر حسین محمود پور نے ناگویا ایشین گیمز میں، لائٹ ویٹ سنگل روئنگ مقابلے میں، چاندی کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد کہا کہ مقابلہ بہت سخت تھا اور میں نہیں سمجھ رہا تھا کہ اس نتیجے تک پہنچ سکوں گا۔ میں نے یہ تمغہ حاصل کرنے کے لئے 12 سال محنت کی ہے۔

ایشین گیمز2026 کے لائٹ ویٹ دو رکنی، سنگل پیڈل روئنگ کے فائنل میں ہانیہ خورسند اور سار فخری نے 7 منٹ اور 17 اعشاریہ 93 سیکنڈ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔   

ناگویا میں ایشین گیمز2026 میں روئنگ کے مقابلوں کے اختتام پرایشین روئنگ فیڈریشن کے چیئر مین چن چون شین نے ایران کی روئنگ ٹیم کی کارکردگی کو قابل تعریف بتایا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ 1998 میں تھائی لینڈ ایشین گیمز میں ایران کی روئنگ ٹیم تکنیکی لحاظ سے اچھی پوزیشن میں نہيں تھی اور خواتین کے روئنگ مقابلے کے دوران ایران کی ایک روئنگ بوٹ الٹ گئی تھی ۔ لیکن ایران کی قومی روئنگ ٹیم نے نمایاں پیشرفت کی ہے اور اس بار کے ایشین گیمز میں اس کی کارکردگی حیرت انگیز تھی۔

ایران کے روئنگ فیڈریشن کے چیئرمین محسن شادی نے مقابلوں کے اختتام پر کہا کہ ہمارے روئنگ کے کھلاڑیوں نے گزشتہ دوسال میں مثال غیرت اور ارادے کے ساتھ پریکٹس کی اور جنگی حالات نیز مشکلات کے باوجود، اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے انتھک محنت کی۔

انھوں نے بتایا کہ ایران کی روئنگ ٹیم نے یہ محنت ایسی حالت میں کی ہے کہ خواتین کے روئنگ کیمپ شروع ہونے سے تقریبا ڈیڑ گھنٹہ پہلے، کیمپ کی جگہ بمباری ہوئی لیکن یہ بمباری بھی ہماری خاتون روئنگ کھلاڑیوں کا عزم وحوصلہ کمزور نہ کرسکی اور آج ہمیں اسی محنت اور مثال عزم وحوصلے کا نتیجہ ملا ہے۔       

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے