مزاحمتی محاذ کا سفر عزت و سربلندی کے ساتھ جاری ہے / امریکہ کو عراق سے نکال دیا : کمانڈر قدس فورس
آئی آر جی سی کی القدس فورس کے کمانڈر نے کہا کہ محاذِ مزاحمتی محاذ عزت اور سربلندی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور تمام تر وسائل کے باوجود امریکہ کو عراق سے باہر کردیا گیا ہے اور اسے ایران کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
تہران کے میلاد ٹاور میں مزاحمتی محاذ کے شہید کمانڈروں کی یاد میں”نصرِ قریب” کے نام سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب کی شہادت کے باوجود، خدائے بزرگ و برتر نے ہماری قوم کو ایک ایسا رہنما عطا کیا جو اسی شان کے ساتھ مزاحمت کے راستے پر گامزن ہے۔
قدس فورس کے کمانڈر نے کہا کہ "دشمن پر عسکری فتوحات اور میدانِ عمل میں ایرانی قوم کی بھرپور موجودگی کے ذریعے، ہم مزاحمت کے مفہوم اورحکمت عملی میں ایک نئے دور کے آغاز کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ہم روز بروز بہادر یمنی قوم کی فتوحات کا مشاہدہ کر رہے ہیں؛ 11 سال سے زائد عرصے کے محاصرے کے باوجود، انہوں نے مزاحمت کے راستے پر مضبوطی سے قدم جمائے رکھے ہیں اور میدانِ جنگ میں بہادری سے پیش قدمی کی ہے۔
جنرل قاآنی نے کہا کہ "یہ فتوحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مزاحمت محاذ، شہید سید حسن نصر اللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین جیسے عظیم شہدا کے خون سے فیض حاصل کرتے ہوئے عزت اور سربلندی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
” بریگیڈیئر جنرل قاآنی نے کہا کہ رہبر شہید امام خامنہ ای نے فرمایا کرتے تھے کہ مسلمانوں کا اتحاد ہی ان کے وقار کا باعث ہے اور حکمت الہی کے ذریعے اپنے اہداف کے حصول کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔”
قدس فورس کے کمانڈر نے کہا کہ اس سال کی یہ برسی ایسے وقت میں منائی جا رہی ہے جب امریکہ، اپنے تمام تر وسائل اور سازوسامان کے باوجود، عراق سے نکلنے پر مجبور ہو چکا ہے، اور عراقی عوام اس فتح کا جشن منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: "آج ہم مزاحمتی محاذ کے اندر مختلف محاذوں پر ہم آہنگی اور اتحاد کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور اس کی ہر کڑی دانشمندانہ منصوبہ بندی اور سوچے سمجھے اقدامات کے ذریعے دشمن کو حیران کر رہی ہے۔
جنرل قاآنی نے مزید کہا کہ "امریکیوں کا خیال تھا کہ وہ ایران کو دو چار دن یا چند ہفتوں میں میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتے ہیں، لیکن ان کے اندازے اور تخمینے دھرے کے دھرے رہ گئے۔



