برطانوی سفیر کی وزارتِ خارجہ طلبی؛ ایران کے خلاف جارحیت میں ملوث ہونے پر لندن سے جواب طلب
برطانوی حکام کی جانب سے ایران پر الزامات عائد کیے جانے کے بعد، برطانیہ کے سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کرکے ایران کے حوالے سے برطانوی حکومت کے مسلسل تخریبی رویے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
برطانوی وزیرِ اعظم کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جانے کے بعد، جمعرات 30 ستمبر کو تہران میں برطانیہ کے سفیر ہیوگو شارٹر (Hugo Shorter) کو ایران کے نائب وزیر خارجہ نے طلب کرکے شدید احتجاج کیا۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے سیاسی امور نے اس موقع پر ایرانی قوم کے خلاف متعدد غیر قانونی اقدامات—خاص طور پر ایران کے خلاف امریکی-صیہونی فوجی جارحیت کی تیاری اور عمل درآمد کے لیے برطانوی اختیار میں موجود فوجی اڈے اور ديگر سہولیات کی فراہمی—کے سلسلے میں برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ذمہ داری کی یاد دھانی کرائی گئي۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے برطانوی سفیر پر واضح کیا کہ حکومت برطانیہ کی حالیہ پروپیگنڈا مہم، جس میں فیئر فورڈ (Fairford) ایئر بیس پر تخریب کاری کی مبینہ سازش کے بارے میں بے بنیاد الزامات بھی شامل ہیں، اس حقیقت کو نہیں چھپاسکے کہ ایرانی قوم کے خلاف امریکی اسرائیلی فوجی جارحیت میں برطانیہ بھی ملوث ہے۔
مجید تخت روانچی نے جتلایا کہ برطانوی حکومت امریکہ و صیہونی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم میں اپنے کردار کی بابت جواب دنیا ہوگا۔
تختِ روانچی نے برطانوی حکام کے ان بے بنیاد اور مضحکہ خیز دعووں کو مسترد کر دیا جن میں ایران کو فیئر فورڈ ایئر بیس پر تخریب کاری کی مبینہ سازش سے جوڑے کی کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ برطانوی حکومت اس معاملے پر باضابطہ وضاحت پیش کرے اور ایران کے حوالے سے اپنے نامناسب رویے کی اصلاح کرے۔
برطانوی سفیر نے اس بات کا وعدہ کیا وہ اسلامی جمہوریہ ایران کا احتجاج لندن کو آگاہ کریں گے۔



