قالیباف نے بیسنٹ کی حالیہ گستاخی کے جواب میں نیا اقتصادی فارمولا پیش کر دیا
مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے امریکی وزیر خارجہ کی تازہ ہرزہ سرائی کے جواب میں ایک نیا اقتصادی فارمولا پیش کیا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی حالیہ ہرزہ سرائی کے جواب میں، جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آئندہ دو ہفتوں میں ایران کی معیشت تباہ ہو جائے گی، امریکی معیشت پر ایران کے دباؤ کے ذرائع پر روشنی ڈالی ہے۔
قالیباف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے: "امریکی حکومت نے ماضی میں تقریباً صفر شرح سود پر بہت زیادہ قرضے لیے تھے اور اب ان قرضوں کی ادائیگی کا وقت آ گیا ہے بنابریں حکومت ان کی ادائیگی کے لیے بہت زیادہ شرح سود پر دوبارہ نئے قرضے لینے پر مجبور ہے۔”
دوسری طرف بانڈز کے خریداروں کی قوت اور گنجائش بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر امریکی بانڈز کے بڑے خریدار، جیسے چین اور جاپان، نئے بانڈز خریدنے یا پچھلے بانڈز کو برقرار رکھنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے بانڈز کے منافع کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
قالیباف نے بیسنٹ کو متنبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند اور توانائی کی قیمتوں کو اونچا رکھنے میں ایران کے کردار اور اسی طرح بانڈز کی شرح منافع میں اضافے پر اس کے اثر نے امریکی وزارت خزانہ کو لگاتار بڑھتے ہوئے بحران سے دوچار کر دیا ہے اور اس کی مشکلات میں شدت پیدا کر دی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جب تک امریکی ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے ان مسائل کو حل نہیں کرتے، تب تک وہ ان اقتصادی مشکلات پر قابو نہیں پا سکتے۔
یاد رہے کہ امریکی حکومت کے تیس سالہ بانڈز کی شرح منافع گزشتہ روز 2002 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور موجودہ رجحان کے ساتھ اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ شرح 1990 اور اس سے پہلے کے برسوں کی شرحوں کی طرف لوٹ سکتی ہے۔



