صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بتایا ہے کہ انھوں نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں، ایرانی عوام کی مظلومیت اور رنج والم نیز امریکا اور صیہونی حکومت کے جرائم بیان کئے
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نےہفتے کی رات نیویارک سے واپسی پر کہا کہ امریکی صدر نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں اپنی اوقات کے مطابق بات کی۔
انھوں نے کہا کہ امریکا پوری دنیا میں دہشت گردی کرتا ہے اور دہشت گرد تیار کرتا ہے اور اسرائیلی حکومت بھی امریکا کی حمایت سے دنیا میں جہاں چاہتی ہے، جس کو چاہتی دہشت گردی کا نشانہ بناتی ہے، قتل کرتی ہے اور اس کے بعد وہ دہشت گردی کے مقابلے کا دعوی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور پورے مشرق وسطی کے عوام ان کی بدمعاشی اور بزدلانہ دہشت گردی کی زد پر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسلامی ملکوں کو اب بیدار ہوجانا چاہئے، ایک دوسری کی مدد کرنی چاہئے اور اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ ہمارے دشمن ہمیں ایک دوسرے کے مقابلے پر لاسکیں۔
صدر ایران نے کہا کہ ہم سے کہا گیا کہ ان سے بات کریں، جبکہ انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا جس پر انھوں نے دستخط کئے تھے۔ ہم نے کہا کہ اگر ہم بات کریں تو کیا وہ اس پر عمل کریں گے؟
صدر مملکت نے کہا کہ ہم اس لئے گفتگو کررہے ہیں کہ دنیا یہ نہ سوچے کہ ہم مذاکرات سے ڈرتے ہیں یا گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ علاقے میں بدامنی کے عامل امریکی اور صیہونی ہیں۔ وہ ہیں جو اپنے قول اور اپنی تحریر پر عمل نہیں کرتے اور ہر روز ایک نئی بات کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے برحق حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں اور یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ جو بھی کہیں ہم اس کو تسلیم کرلیں۔



