ایرانی فوج کے سربراہ نے جارح دشمن کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے سخت ترین واروں کا منتظر رہے
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سربراہ جنرل امیر حاتمی نے سید الشہدائے افواج مسلح شہید جنرل عبدالرحیم موسوی کے زیر عنوان منعقدہ پروگرام سے خطاب میں کہا کہ دشمن سمجھ رہا تھا کہ ہمارے رہبر کو شہید کردے گا تو ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا لیکن سبھی ڈٹ گئے، استقامت کے ساتھ ملک کا دفاع کیا اور دشمن کو شکست دی۔
انھوں نے جنگ کے حالات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ اس وقت حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ ہم کامیاب ہوگئے ہیں لیکن اب ہمیں اس کامیابی کی حفاظت کرنی ہے۔
جنرل حاتمی نے کہا کہ ہم نے دشمن پر کاری وار لگائے ہیں لیکن اس کو ہمارے مزید کاری واروں کا منتظر رہنا چاہئے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت دشمن جو چیخ وپکار مچارہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اعتبار ختم ہورہا ہے، وہ مبہوت ہے، اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ خود کو وطن کا سپاہی سمجھنے والے ایران کے 9 کروڑ عوام سے کیسے مقابلہ کرے۔
جنرل حاتمی نے اسی کے ساتھ خبردار کیا کہ اگر ایران تجارت نہ کرسکا تو کوئی بھی تجارت نہیں کرسکے گا۔ آبنائے ہرمز ہماری عزت اور شرف ہے ہم دشمنان ایران کو اس سے استفادہ کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔



