ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ایران کی جانب سے طے کردہ شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے، جبکہ تہران نے سفارتی مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا رکھا ہوا ہے۔
عراقچی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وفد نے مختلف ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق تہران کی شرائط واضح طور پر پیش کیں۔ ان شرائط سے ثالثوں کو بھی آگاہ کیا گیا، جنہوں نے انہیں امریکی حکام تک پہنچایا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران نے اس دوران کئی سفارتی تجاویز بھی پیش کی ہیں، تاہم ثالثوں کے ذریعے امریکا کی جانب سے ابھی حتمی اور باضابطہ مؤقف ایران تک نہیں پہنچا۔ عراقچی نے کہا کہ ایرانی قیادت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابتدائی بیانات سے آگاہ ہے، لیکن تہران ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے حتمی جواب کا انتظار کر رہا ہے اور اسی کی بنیاد پر آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
عراقچی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور مذاکرات میں پیش رفت دونوں معاملات ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہیں۔ حالیہ ایرانی تجویز کے مطابق ضروری اقدامات مکمل ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے کے اندر معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے اور اس کے بعد مزید مذاکرات شروع کرنے کی بات کی گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران نے فوجی، سفارتی اور معاشی شعبوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ان کے بقول موجودہ تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا حل باعزت، منصفانہ اور ایرانی عوام کے جائز حقوق کو یقینی بنانے پر مبنی ہونا چاہیے۔



