◷

یمنی عہدیدارکی باب المندب آبنائے کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی

25 ستمبر 2026

یمنی عہدیدار: اگر امریکہ نے مداخلت کی تو ہم باب المندب کی آبنائے کو مکمل طور پر بند کر دیں گے۔

یمنی وزارتِ دفاع کے ایک عسکری مشیر نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے مداخلت کی تو خطے میں واشنگٹن کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔


ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، صنعا میں قائم وزارتِ دفاع کے ایک عسکری مشیر نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے یمن کی جنگ میں عسکری مداخلت کی یا باب المندب آبنائے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، تو یمن ایسے اقدامات کا بھرپور جواب دے گا اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائے گا۔

یمنی وزارتِ دفاع کے عسکری مشیر، بریگیڈیئر جنرل عابد محمد الثور نے کہا: "اگر امریکہ نے اپنے بحری بیڑے کے ساتھ عسکری مداخلت کی جسارت کی یا باب المندب پر ​​قبضہ کرنے کی کوشش کی، تو یہ ہمارے لیے — اور کسی بھی دوسرے فریق کے لیے — ایک ‘ریڈ لائن’ ہوگی، اور ہم اس معاملے پر لڑیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ فضائی حملوں یا فضائی مدد کے ذریعے سعودی عرب کی حمایت میں مداخلت کرتا ہے تو "ہم خطے میں امریکی مفادات کو ہدف سمجھیں گے اور اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتیں گے۔” الثور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے حالات میں باب المندب کی آبنائے امریکی بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔

ایران ہمارا اتحادی اور برادر ملک ہے

انٹرویو کے دوران یمنی فوجی عہدیدار نے ایران کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران، صنعا کو احکامات جاری نہیں کرتا۔ انہوں نے وضاحت کی: "ایران ہمارے لیے ایک دوست، اتحادی اور برادر ملک ہے، لیکن وہ ہمارے اقدامات کا تعین نہیں کرتا؛ ہم اپنے فیصلوں اور خودمختاری کے معاملے میں آزاد ہیں۔” ساتھ ہی، انہوں نے دونوں فریقین کے تعلقات کو ایک "اتحاد” اور "ایک ہی جسم” سے تعبیر کیا۔

الثور نے سعودی عرب کو خبردار بھی کیا کہ اگر یمن پر حملے جاری رہے تو اسے "آہنی ہاتھ” (سخت ترین ردعمل) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعا حکومت کی افواج میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ "سعودی عرب کو سزا دے سکیں” اور اسے تیل اور معاشی شعبوں کے میدان سے باہر نکال سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے