◷

حماس: نیتن یاہو کی تقریر "کھوکھلی اور جھوٹ سے بھری ہوئی” تھی۔

25 ستمبر 2026

حماس نے کہا ہے کہ دنیا اسرائیلی فوج کی "اخلاقیات” کے بارے میں بنجمن نیتن یاہو کے جھوٹے دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔


صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کے ردعمل میں، اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے کہا: "یہ دعویٰ کہ اسرائیلی فوج ‘انتہائی اخلاقی’ ہے، دنیا میں کسی بھی ایسے شخص کے لیے ناقابلِ قبول ہے جس نے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں، نسل کشی پر مبنی جنگ، بھوک و پیاس مسلط کیے جانے اور بچوں، خواتین اور نہتے شہریوں کے بے رحمانہ قتلِ عام کا مشاہدہ کیا ہو۔”

حماس نے نیتن یاہو کی تقریر کو بھی "کھوکھلی، جھوٹ اور بے بنیاد نعروں پر مبنی” قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانات سے صیہونی حکومت کو درپیش بحران کی سنگینی عیاں ہوتی ہے۔

اس تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی آزاد کمیٹیوں اور اداروں کی رپورٹس میں غزہ میں کیے گئے اقدامات کو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی قرار دیا گیا ہے؛ مزید برآں، اس کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کا "منظم نسل کشی” کے دعوے کی تردید کرنا ان رپورٹس اور زمینی حقائق کے بالکل منافی ہے۔

حماس نے نیتن یاہو کی تقریر کے دوران جنرل اسمبلی ہال سے متعدد قومی وفود کے واک آؤٹ کو اُس اور صہیونی حکومت، دونوں کو درپیش "بین الاقوامی تنہائی” کی علامت قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام فلسطینیوں کی ابتر صورتحال کے بارے میں بڑھتی ہوئی عالمی آگاہی اور فلسطینی عوام کے ساتھ بڑھتی ہوئی یکجہتی کا عکاس ہے۔

آخرکار، اس تحریک نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے جاری کردہ وارنٹِ گرفتاری کے تناظر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پوڈیم پر نیتن یاہو کی موجودگی کو ایک "سیاسی غلطی” قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ان کا مقدمہ بین الاقوامی انصاف کے کٹہرے میں چلایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے