علی باقری: امریکا نے ایک خود مختار ملک پر جارحیت کے علاوہ عالمی معیشت کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکرٹریٹ میں بین الاقوامی امور کے سربراہ علی باقری نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکا نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنی جارحیت اور تسلط پسندی کی سرشت کی حقیقت ظاہر کر دی اور ایک آزاد ملک پر جارحیت کے علاوہ عالمی معیشت کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
علی باقری نے پیرکو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات میں کہا: امریکا نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک جارحانہ اور مجرمانہ جنگ شروع کی اور سب سے بڑا جرم، یعنی اسلامی جمہوریہ ایران کے عظیم رہبر امام خامنہ ای اور ان کے عزیز اہل خانہ کو قتل کیا اور اس کے بعد غیر معمولی جرائم کا ارتکاب کیا، جن میں سے ایک میناب شہر کے ایک پرائمری اسکول پر میزائل حملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اس روایت کے اعادے کو روکنے کے لیے، جس کا ایک نتیجہ، بین الاقوامی سلامتی میں خلل ہے، اس جنگ کے تمام مجرموں کی سزا کو بین الاقوامی مطالبہ بننا چاہیے اور اس راستے میں کسی قسم کی نرمی قبول نہیں کی جانی چاہیے اور نہ ہی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ابتدائی لمحات سے قانونی دفاع شروع کیا اور طاقت کے ساتھ اسے جاری رکھا۔
قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکرٹریٹ کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے اس ملاقات میں مزيد کہا: جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کی کارکردگی کی منطق تبدیل نہیں ہوئی، ہم ایران کی سلامتی، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا جاری رکھیں گے اور اس راستے میں ہم کسی کا ملاحظہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے استقامت کی راہ میں ڈٹی رہنے والی ایرانی قوم اس ظالمانہ جنگ میں فاتح ہوئی جو امریکا اور صہیونی حکومت نے ہمارے ملک کے خلاف شروع کی تھی اور اسی وجہ سے اب امریکا سمجھ رہا ہے کہ ایک تہذیب کے خلاف جنگ کے کیا نتائج ہو سکتے ہيں۔



