حجاب پر پابندی کے تنازعے میں آذربائیجان اور ترکی کے تعلقات کشیدہ؛ 31 ترک شہریوں کے داخلے پر پابندی
آذربائیجان نے اسکولوں میں اسلامی لباس اور حجاب پر پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے 31 ترک شہریوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ ممنوعہ فہرست میں سیاسی رہنما، صحافی، مذہبی شخصیات اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد شامل ہیں، جس کے بعد دونوں قریبی اتحادی ممالک کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں۔
آذربائیجان نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ترکی کے 31 شہریوں کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ ان میں سیاسی، صحافتی اور مذہبی شخصیات بھی شامل ہیں۔ یہ اقدام آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندیوں کے معاملے پر دونوں اتحادی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔
الجزیرہ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق، ترکی اور آذربائیجان کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب آذربائیجان نے گزشتہ ماہ اسکولوں کے لباس سے متعلق نئے ضوابط منظور کیے۔ ان ضوابط کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں میں ایسے لباس یا اضافی اشیا کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جو عوامی تعلیم کے نظام میں سیکولر اصولوں سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔
سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو اور دیگر شہروں میں حجاب کرنے والی طالبات اور معلمات کو سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے، حالاں کہ متعلقہ فیصلے میں حجاب پر پابندی کا واضح ذکر نہیں کیا گیا۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ممنوعہ افراد کی فہرست میں شامل لوگوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کو ایسے مؤقف کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جو، وزارت کے دعوے کے مطابق، آذربائیجان کی خودمختاری، قومی سلامتی، آئینی نظام، عوام اور قیادت کو نشانہ بناتے ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق، ان افراد نے طاقت کے ذریعے حکومت گرانے، مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر تشدد کرنے اور مذہبی نفرت و دشمنی کو ہوا دینے کی حمایت بھی کی ہے۔
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ اس معاملے میں مستقبل میں مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
ترکی میں غم و غصہ؛ ممنوعہ فہرست میں کون شامل ہے؟
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ان افراد کی جانب سے شائع کیے گئے مواد کی کوئی واضح مثال پیش نہیں کی۔ تاہم، ممنوعہ فہرست میں ترکی کی نیو ویلفیئر پارٹی کے سربراہ فاتح اربکان، ترک پارلیمان کے رکن عمر فاروق گرگرلی اوغلو اور ہدا پار پارٹی کے نائب سربراہ یحییٰ اوغراش کے نام شامل ہیں۔
اس فہرست میں صحافی، بلاگرز، مذہبی موضوعات پر لکھنے والے مصنفین اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ایک سابق عہدیدار کا نام بھی شامل ہے۔
اس فیصلے کے بعد ترکی کے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے اور احتجاج کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
فاتح اربکان نے آذربائیجان کے صدر الہام علیاف سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آذربائیجان میں طالبات کے حجاب پر پابندی ختم کر دی جائے، چاہے ہمیں خود اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملے۔
انہوں نے باکو میں صیہونی ریاست کے صدر اسحاق ہرزوگ کی میزبانی کرنے پر بھی علیاف کو تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم اس کے ساتھ ہی ترکی اور آذربائیجان کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے پر زور دیا۔
ترک پارلیمان کے رکن عمر فاروق گرگرلی اوغلو نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان نے میرے اور 30 دیگر افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ پابندی مضحکہ خیز ہے۔
انہوں نے علیاف کی حکومت کو آمرانہ قرار دیا اور اس پر آزادیوں کو محدود کرنے کا الزام عائد کیا۔
حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج؛ ممنوعہ فہرست میں نام آنا باعثِ فخر قرار
ترک صحافی حقی ارن، جن کا نام بھی ممنوعہ افراد کی فہرست میں شامل ہے، نے کہا کہ آذربائیجان کے حکام نے ترکی میں آذربائیجان کے سفارت خانے اور قونصل خانے کے سامنے حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی اجتماعات میں ان کی شرکت اور سوشل میڈیا پر ان کی تحریروں کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فہرست میں نام شامل ہونا ان کے لیے دنیا میں شرمندگی کا باعث نہیں بلکہ اعزاز کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ بیان کرنے سے ہم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ فیصلہ باکو کی جانب سے جمعے کو اعلان کے بعد سامنے آیا کہ اس نے ترکی کے اخبار شانلی اورفا اولای کے مصنف اور صحافی جلال چیفتچی کے خلاف طاقت کے ذریعے حکومت گرانے کی دعوت دینے اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کے الزام میں قانونی کارروائی شروع کی ہے۔
آذربائیجان کے نئے تعلیمی ضوابط پر ترک حکام کا سخت ردعمل
اس سے قبل ترک صدر کے سینئر مشیر اوکتائے سارال نے آذربائیجان کی جانب سے گزشتہ ستمبر میں منظور کیے گئے ضوابط پر تنقید کرتے ہوئے معمول کے سفارتی انداز سے ہٹ کر سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔
انہوں نے ان پابندیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب پہننا ایک دینی فریضہ ہے۔
سارال نے مزید کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ آذربائیجان جلد از جلد اپنی اس غلطی سے رجوع کرے گا۔
ان بیانات کے ایک روز بعد الہام علیاف کی جماعت نیو آذربائیجان پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ان کے ملک کو ایک ایسی مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مسلسل بڑھ رہی ہے، منظم ہے اور جس کا مقصد کھلے عام بہتان تراشی کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلانا ہے۔
اسکولوں کے لباس کے ضوابط؛ سیکولر نظام اور حجاب کی آزادی پر تنازع
آذربائیجان کی حکومت نے گزشتہ 21 ستمبر کو اسکولوں کے لباس سے متعلق ضوابط میں ترامیم منظور کی تھیں۔ حکام کے مطابق، ان ترامیم کا مقصد سرکاری تعلیمی نظام کی سیکولر حیثیت کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ تبدیلیاں الہام علیاف کے گزشتہ جولائی میں جاری کیے گئے اس حکم کے بعد کی گئیں جس میں سرکاری تعلیمی اداروں میں یکساں لباس نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
تاہم، نئے ضوابط کے نفاذ کے بعد اسکولوں کے لباس کی پابندیوں اور حجاب کے انتخاب کی آزادی کے درمیان تعلق پر وسیع تنازع پیدا ہو گیا ہے، حالاں کہ آذربائیجان کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔



