خیبر پختونخوا میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
پاکستانی فوج نے افغانستان کے طالبان پر اشتعال انگیز اقدامات اور سرحدی لائن پر پاکستانی فورسز کی چوکیوں پر فائرنگ کا الزام عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی میں طالبان کے متعدد اہلکار ہلاک ہوگئے۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سنیچر کی رات سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خیبر پختونخوا صوبے کے ضلع کرم میں واقع ایک سرحدی مقام کو افغان سرحدی فورسز کی جانب سے بلاجواز فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کے میڈیا ذرائع نے رپورٹ دی کہ اس علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ مشترکہ سرحد پر اس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں طالبان کے متعدد اہلکار ہلاک ہوگئے اور ان کا ایک فوجی اڈہ بھی تباہ کردیا گیا۔ پاکستانی سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ اپرکرم سیکٹر میں فوج نے افغان طالبان کی ٹاپسر پوسٹ اور شپولا بیس کیمپ کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی فوج نے اس کارروائی میں شپولا بیس کیمپ کے پوری طرح تباہ ہو جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی کشیدہ سرحدوں پر گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر اپنے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر ریاستی عناصر کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کرتے ہیں۔ افغانستان کی عبوری حکومت نے اپنے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کو الزام تراشی اور دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے بحرانوں کا حل اپنے ملک کے اندر تلاش کرنا چاہیے۔ اکتوبر کے آغاز میں پاکستان نے افغانستان کی سرزمین پر دو فضائی حملے کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں متعدد دہشت گرد مراکز تباہ کردیے گئے اور تحریک طالبان پاکستان کے بہت سے افراد ہلاک ہوئے۔



