یمن کے مغربی ساحلی محاذ کے مزید 159 قیدیوں کی رہائی
یمن میں جنگی قیدیوں کی کمیٹی نے بتایا ہے کہ مغربی ساحلی محاذ پر جھڑپوں کے دوران قیدی بنائے گئے 159 افراد کو رہا کر دیا گيا ہے۔
یمن میں جنگي قیدیوں کی قومی کمیٹی کے سربراہ نے حالیہ جھڑپوں کے قیدیوں کے دوسرے گروپ کی رہائی کی خبر دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان 159 افراد کو رہا کردیا گیا ہے جنھوں نے جنگ کیے بغیر ہتھیار ڈال دیے تھے اور رضاکارانہ طور پر خود کو یمنی فورسز کے حوالے کر دیا تھا۔
المسیرہ ٹی وی چینل کے حوالے سے ارنا نے رپورٹ دی ہے کہ یمن میں جنگي قیدیوں کی قومی کمیٹی کے سربراہ عبدالقادر المرتضیٰ نے بتایا ہے کہ اس کمیٹی نے آج مغربی ساحلی محاذ پر سعودی عرب سے وابستہ قیدیوں کے دوسرے گروپ کو رہا کردیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس گروپ میں 159 افراد شامل ہیں جنھوں نے لڑائی کے بغیر رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال دیے تھے۔
المرتضیٰ نے بتایا کہ یہ اقدام ان تمام افراد کے لیے عام معافی کے فرمان پر عمل درآمد کے سلسلے میں کیا گیا ہے جو جنگ کیے بغیر ہتھیار ڈال کر خود کو یمنی فورسز کے حوالے کر دیں۔ قیدیوں کی رہائی کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس سے قبل پہلے مرحلے میں 323 قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا جبکہ مختلف میدانی مراحل میں بھی ہتھیار ڈالنے والے سیکڑوں افراد کو رہا کیا جاچکا ہے۔
یمن میں جنگي قیدیوں کی قومی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ آج کی رہائی اور اس سے پہلے کیے گئے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام معافی اب بھی نافذ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقی فیصلہ ہے جس پر میدان میں عمل درآمد ہورہا ہے اور اس میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو اپنے ہتھیار ڈال دیں۔ المرتضیٰ نے ان افراد سے، جو اب بھی سعودی عرب کی حمایت یافتہ فوج کی صفوں میں شامل ہیں، اپیل کی کہ وہ اپنے وطن کی آغوش میں واپس آجائیں اور عام معافی ختم ہونے سے پہلے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ یہ عام معافی ہمیشہ جاری نہیں رہے گی۔
یاد رہے کہ یہ اقدام یمن کے رہبر کی جانب سے جاری کیے گئے اس فرمان کے بعد کیا گیا ہے جس میں ملک میں حالیہ جھڑپوں کے دوران ہتھیار ڈالنے والے افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا تھا۔



