امریکا سے مرعوب ہونا اور فیصلوں میں خودمختاری نہ ہونا، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کی طاقت اور یکجہتی کو ختم کر دے گا: صدر پزشکیان
صدر مملکت نے نے شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس گروپ کے رکن ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اجلاسوں کے انعقاد کا مقصد مالی، اقتصادی، تجارتی، سلامتی اور سیاسی شعبوں میں مشترکہ عملی لائحہ عمل تک پہنچنا ہے اور اگر ان تنظیموں کے فیصلے امریکا کی داخلی سیاست سے متاثر ہوں گے تو ان کی طاقت اور یکجہتی کمزور ہو سکتی ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے جمعے کو ترکمانستان میں دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے سربراہی اجلاس اور بحیرۂ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں کثیر فریقی روابط اور تعاون کو فروغ دینے کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان روابط اور ملاقاتوں میں جتنا زیادہ اضافہ ہوگا اور انھیں جتنا مضبوط بنایا جائے گا، اتنا ہی زیادہ ہم کثیر فریقی پالیسیوں اور اسٹریٹیجیز کو عملی جامہ پہنا سکیں گے۔
صدر مملکت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے انعقاد کو اچھا اور مؤثر قرار دیا اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عملی میدان میں بھی منصوبوں پر عمل درآمد ضروری ہے، کہا کہ بہت سے مواقع پر گفتگو کے دوران مسائل اٹھائے جاتے ہیں لیکن عمل درآمد کے مرحلے میں ان وعدوں کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اصولی طور پر ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ فیصلوں اور گفتگو کے عملی نتائج سامنے آئیں۔ انھوں نے کہا کہ فطری طور پر جب شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان مل کر ایسا فیصلہ کریں جو پیشرفت اور خوش حالی کے عمل میں مؤثر ہو اور ممالک اور ان کے ماتحت اداروں کے درمیان تعاون اور روابط جاری ہوں، تو ہم اپنے طے شدہ اہداف تک پہنچ سکتے ہیں۔
صدر پزشکیان نے امریکا کی مداخلتوں کا ذکر کرتے ہوئے، جو اس ملک کی داخلی سیاست کی بنیاد پر کی جاتی ہیں، مزید کہا کہ بعض اوقات ان میں سے کچھ اسٹریٹیجیز شنگھائی تعاون تنظیم کے موقف پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم یا برکس جیسے اجلاسوں کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جو ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق اور مفاہمت کرتے ہیں، وہ مالی، اقتصادی، تجارتی، سلامتی اور سیاسی شعبوں میں مشترکہ عملی لائحہ عمل تک پہنچ سکیں۔ اگر امریکا جیسے کسی ملک کی داخلی پالیسیاں ان اجلاسوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوں تو یہ تنظیمیں اپنی طاقت اور یکجہتی کھو دیں گی۔
ڈاکٹر پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو ہمہ گيریت کی جانب لے جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت اختلاف اجارہ داری اور ہمہ گیریت کو قبول کرنے کے درمیان ہے۔ یہ ان مسائل میں سے ایک ہے جن کا سامنا اسلامی جمہوریۂ ایران کو تمام اجلاسوں میں کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ اب ان میں سے بعض مسائل بتدریج حل ہو رہے ہیں لیکن پھر بھی کچھ ممالک یک طرفہ کارکردگی اور امریکا کی طاقت کے بل پر چلنے والی اور سامراجی پالیسیوں کی پیروی کرنے کی طرف مائل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات مضبوط اور عمیق کیوں نہیں کر سکتے اور ہمارا ہمسایہ ملک دنیا کے دوسرے سرے پر واقع کسی ملک کی پالیسیوں کی پیروی کیوں کرے؟ یہ وہ مشکل ہے جو اس وقت موجود ہے۔ ایران سے متعلق شنگھائی تعاون تنظیم کے بعض معاہدوں میں اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ ان فیصلوں کے بارے میں امریکا کی کیا رائے ہے۔
صدر مملکت نے اختلاف اور ٹکراؤ سے گریز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے گفتگو کو مسائل کے حل اور مشترکہ نقطۂ نظر تک پہنچنے کا بنیادی راستہ قرار دیا اور کہا کہ وحشیانہ طرز عمل سے تمدن اور انسانیت کے احترام کی طرف سفر میں وقت لگتا ہے۔ جن مسائل کو گفتگو کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، انھیں زور زبردستی اور دھونس سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ہم انسانوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے تاکہ تمام انسان آسودگی، ترقی و پیشرفت، آرام اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں دوسرے ممالک کے اثاثوں اور وسائل پر بری نظر نہیں رکھنی چاہیے اور نہ ہی انھیں لوٹنے اور ان پر جارحیت کرنے کا خیال دل میں لانا چاہیے۔ صدر نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن آئے گا جب ہم اس کرۂ ارض پر ایک دوسرے کے ساتھ امن و سکون سے زندگی گزاریں گے۔ امریکا منہ زوری سے کام لے رہا ہے اور سبھی ملکوں کو آپس میں تعاون کرنا چاہیے تاکہ اسے ایسا کرنے سے روکا جا سکے۔ اسلامی جمہوریہ ایران بھی پوری طاقت کے ساتھ اپنے اصولوں پر قائم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کی کوششوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ امن و سکون قائم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔
اس ملاقات میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے بھی ڈاکٹر پزشکیان کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ہم آپ سے متفق اور آپ کے ہم خیال ہیں اور یہ تنظیم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ممالک اور حکومتوں کے سربراہوں کی باتیں عملی شکل اختیار کرتی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں اپنی سابقہ ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے دو سال تک نائب سیکریٹری جنرل کے طور پر اور تقریباً دو سال سے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ اب تک ہمارے نتائج ٹھوس اور مؤثر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے پچیس سالہ دور میں ہم نے ان ہدایات اور معاہدوں پر عمل درآمد کیا ہے جن کے لیے اس تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہوں نے عہد کیا تھا اور جو کاغذوں تک محدود تھے۔ البتہ بعض بیانات اور تجاویز، جن کی کوئی ٹھوس شکل یا حقیقی لائحہ عمل نہیں ہوتا، فطری طور پر قابل عمل نہیں ہوتیں۔ ان تجاویز کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ملک کے خصوصی کو آرڈی نیٹرز متعلقہ امور اور مجوزہ اسٹریٹیجیز پر عمل درآمد کی کوشش کرتے رہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں ایک طریقۂ کار موجود ہے جس کے تحت اگر اتفاق رائے پیدا نہ ہو تو ان تجاویز پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ کسی ملک کے صدر کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو عملی شکل دی جائے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے اجارہ داری کی مخالفت کے بارے میں ڈاکٹر پزشکیان کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے بعض رکن ممالک دوسرے تمام ممالک کے ساتھ اپنے عملی تعلقات کے مقابلے میں اپنے دوطرفہ تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں اور دوسرے لفظوں میں وہ ان تعلقات کو دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی نسبت بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ممکن ہے کہ بعض فیصلے تنظیم کی پالیسیوں کے مطابق نہ ہوں۔
انھوں نے آخر میں کہا کہ ان سمجھوتوں کی فہرست تیار کی جائے جو ایران کے ساتھ کیے گئے لیکن ان پر عمل نہیں ہوا تاکہ سفیروں اور نمائندوں کے ذریعے ان پر کام کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ہم سب امن و سکون کے حصول کے لیے کوشش کر رہے ہیں اور شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی بنیاد بھی یہی اصول ہے۔ انھوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے گریز اور ممالک کی علاقائی سالمیت کا احترام اہم ہے اور ان اصولوں کی عملی طور پر پابندی کی جانی چاہیے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے زور دے کر کہا کہ سب کو جوہری توانائی سے پرامن طریقے سے فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے اور انھیں جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور پھیلاؤ نہ کرنے کے اصول کی پابندی کرنی چاہیے۔



