جان مرشیمر: ایران اور حوثیوں کو شکست دینے کا کوئی راستہ نہیں ہے
معروف دانشور جان مرشیمر نےخبردارکیا ہے کہ امریکا کے سامنے ایران اور انصاراللہ کو شکست دینے کا کوئی راستہ نہیں ہے
امریکا کے ممتاز دانشور اور شیکاگو یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر جان مرشیمر(John Mearsheimer) نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کو شکست دینے کا کوئی راستہ نہیں ہے اورانصاراللہ یمن کے خلاف جنگ شروع کی تو اس میں بھی شکست ہوگی
انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے انصاراللہ یمن سے براہ راست جنگ شروع کی تو نہ صرف یہ کہ کامیابی نہیں ملے گی بلکہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے شدید تر ہوجائیں گے اور اگر ایران اس لڑائی میں شامل ہوگیا تو مغربی ایشیا میں امریکا کی حالت زیادہ پیچیدہ ہوجائے گی۔
پروفیسر مرشیمر نے کہا ہے کہ 2025 کا تجربہ شاہد ہے کہ امریکا انصاراللہ یمن کو شکست نہیں دے سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے حملے شروع کرنے کے تقریبا دو مہینے بعد، کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے جنگ بند کردی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے فوجی مقاصد نہیں پورے کرسکا تھا اوراس کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔
شیکاگو یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے اس پروفیسرکا کہنا ہے کہ موجودہ حالات امریکا کے لئے گزشتہ برس سے زیادہ سخت ہیں، ایران سے طولانی جنگ کے نتیجے اس کے اسلحے کے ذخائر کم ہوگئے ہیں اور ایران کے خلاف جنگ کے ساتھ، اپنے اتحادیوں کے دفاع میں ایک اور جنگ شروع کرنے میں اس کے سامنے سخت مشکلات ہیں۔
مرشیمر نے کہا کہ اگر ہم نے انصاراللہ سے جنگ شروع کی تو دو باتیں ہوں گی، ایک یہ کہ ہم کامیاب نہیں ہوں گے اور دوسرے ہمارے مزید اسلحے خرچ ہوجائيں گے۔
انھوں نے انصارللہ کی اسٹریٹیجک پوزیشن اور بحیرہ احمر نیز باب المندب سے تیل کی سپلائی روکنے کی اس کی توانائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے دوبارہ انصاراللہ یمن سے جنگ شروع کی تو سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچوں پر جوابی حملے ہوں گے۔
پروفیسر مرشیمرنے ایران سے جنگ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے علاقے میں خود کو مشکل میں پھنسا لیا ہے اور اس سے نکلنے کا اس کے سامنے کوئی واضح راستہ نہیں ہے۔



