◷

سعودی عرب کا کلسٹر بموں سے حملہ

10 اکتوبر 2026

سعودی عرب کا کلسٹر بموں سے حملہ، بچوں کے خلاف جنگ ہے: یمنی ذرائع،

سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے صوبۂ حجہ کے علاقے بنی حطب کے ایک دیہات پر کلسٹر بموں سے حملہ کیا ہے۔

یمن کی قومی انسانی حقوق کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے آج صوبۂ حجہ کے علاقے بنی حطب کے دیہات پر کلسٹر بموں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

تاہم، ان بموں کے اثرات صرف تین افراد کے زخمی ہونے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ ہتھیار کئی سال تک انسانی جانوں کے لیے خطرہ بنے رہتے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ان بموں کا نشانہ بننے والوں میں زیادہ تر یمنی بچے شامل رہے ہیں، جو کھیلتے ہوئے یا کھیتوں میں کام کے دوران ان بموں کے دھماکوں کی زد میں آکر شہید یا زخمی ہوئے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب 2016 میں عالمی سطح پر شدید انکشافات اور احتجاج کے بعد سعودی اتحاد نے برطانیہ میں تیار کردہ کلسٹر بموں کے استعمال کا اعتراف کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس قسم کے گولہ بارود کا استعمال روک دے گا۔ تاہم، 2017 میں بھی کلسٹر بموں کے استعمال کے متعدد واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی تھی۔

یمن کی قومی انسانی حقوق کمیٹی نے اپنے بیان میں بنی حطب کے رہائشی دیہات پر کلسٹر بموں سے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کلسٹر بموں کے وسیع اور خطرناک اثرات کے باعث 2008 میں منظور ہونے والے کلسٹر میونیشنز کنونشن کے تحت ان پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ بم پھٹنے کے بعد وسیع علاقے میں سینکڑوں چھوٹے بم بکھیر دیتے ہیں، جس سے عام شہریوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

یمن کی قومی انسانی حقوق کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ کلسٹر بموں کے تقریباً 30 فیصد چھوٹے بم زمین سے ٹکرانے کے وقت پھٹ نہیں پاتے اور برسوں تک لوگوں کے لیے مہلک خطرہ بنے رہ سکتے ہیں، خصوصاً بچوں، خواتین اور کسانوں کے لیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے