بلومبرگ: ایران نے اپنے میزائل اور ڈرون تیار کرنے کے کارخانے محفوظ رکھے ہیں
بلومبرگ نے رپورٹ دی ہے کہ ایران نے اپنے میزائل اور ڈرون کے کارخانے محفوظ رکھے ہیں اور ان کے ذخائر بڑھانے پر قادر ہے
بلومبرگ نے مغربی حکام کے حوالے سےکہا ہے کہ تہران ہتھیاروں کی پیداوار اور اپنے اسلحے کے گودام بھرنے کی توانائی رکھتا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق ایک مغربی عہدیدارنے کہا ہے کہ ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کے قابل توجہ ذخائر موجود ہیں۔
امریکا کے اس میڈیا ہاؤس کا یہ تجزیہ، امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام کے دعوؤں کے برعکس ہے جنھوں نے کہا ہے کہ آٹھ مہینے کے فضائی حملوں میں ایران، اس قابل نہیں رہا کہ واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے فوجی اڈوں کے لئے خطرہ بن سکے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ ٹرمپ نے جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی دن بعد کہا تھا کہ ایران کی فوجی توانائی ختم ہوگئی۔ اسی طرح امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی دفاعی صنعت اور اس کے سبھی دفاعی مراکز ختم کردیئے گئے۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں مغربی حکام کے تجزیئے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا کے فضائی حملے دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایران کے پاس جوابی حملوں کی کافی توانائی موجود ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، مغربی انٹیلیجنس تجزیے میں ابھی گزشتہ جون میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس جنگ میں کام آنے والے گولے بارود اور ہتھیاروں کا تین چوتھائی ذخیرہ موجودہ ہے۔
بلومبرگ اکنامکس کے ڈیفنس سیکشن کے انچارج نے کہا ہے کہ امریکا کے حملے رکنے کے بعد ایران نے اپنی فوجی توانائی مجتمع کرلی اور ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ بھر لئے۔ تہران نے جنگ کے اگلے دور کے لئے خود کو تیار کرلیا ہے ۔
اسی کے ساتھ پیسیفک فورم تھنک ٹینک کے سینیئر محقق ولیئم آلبرک
نے ایران کے کروز میزائلوں کے وسیع ذخائر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بحری جہازوں پر حملے کے سلسلے میں ایران کی توانائیوں کا بہت چھوٹا سا حصہ دیکھا ہے۔



