فارین افیئرز نے لکھا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے نہ صرف یہ کہ امریکا کے فوجی اخراجات بڑھا دیئے بلکہ اس کی فوجی طاقت کا بھرم بھی ختم کردیا
فارین افیئرز نے لکھا ہے کہ جب امریکا نے ایران پر حملے کا آغاز کیا تو اس کو توقع تھی کہ مختصر وقت میں ہی ایران کی حکومت ختم ہوجائے گی لیکن چھے مہینے سے زیادہ گزرگئے اور نہ صرف یہ کہ حکومت ایران باقی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگئی ہے۔
یہ جریدہ اپنے تجزیئے میں لکھتا ہے کہ تہران نے اہم عہدیداروں کی شہادت کے بعد بلاتاخیر نئے عہدیداروں کا تعین کردیا اور اس نے آبنائے ہرمز بند کردی جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں توانائی مہنگی ہوگئي ۔
فارین افیئرز نے لکھا ہے کہ سیاسی دباؤکا حربہ بدستور تہران کے اختیار میں ہے اور امریکیوں کی ناراضگی بڑھ گئی ہے۔
یہ جریدہ لکھتا ہے کہ بحری محاصرے کے باوجود ایران اپنی ضرورت کا سامان لارہا ہے۔
فارین افیئرز نے ایرانی اسلحے، ڈرون اور میزائلوں کے بارے میں لکھا ہے کہ ڈرون اور میزائل برتری کے اہم ترین عوامل ہیں جن سے تہران نے حملوں کا موثر مقابلہ کیا اور آبنائے ہرمز اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
یہ جریدہ آخر میں لکھتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے ثابت کردیا کہ اسلحے کے تعلق سے صورتحال بدل گئی ہے، یہ وافر مقدار میں کم خرچ اسلحے کا زمانہ ہے اور اب امریکا یا کسی بھی ملک کی فوج جدیدترین قیمتی اسلحے کے بل پرجنگ نہیں جیت سکتی اور بڑے ملکوں کی فوجی طاقت بہت حد تک غیر موثر ہوچکی ہے۔ اب حملہ دفاع سے زیادہ سستا ہوگیا ہے، مثال کے طور پر 35 ہزار ڈالر کے شاہد ڈرون کے حملے کو ناکام بنانے کے لئے 40 لاکھ ڈالر کے پیٹریاٹ میزائلوں کا استعمال زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہ سکتا۔



