◷

یمنی افواج کی تیزرفتار پیشقدمی

3 نومبر 2026

یمنی فوج کی سعودی حمایت یافتہ نام نہاد حکومت کے اڈے کی طرف پیش قدمی

میدانی ذرائع کے مطابق، یمنی فوج تیزی سے سعودی حمایت یافتہ نام نہاد حکومت کے مرکزی اڈے کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔

چار فوجی ذرائع نے کل پیر کے روز خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ یمنی فوج عدن کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔

ان ذرائع نے کہا کہ انصاراللہ کے مجاہدین عدن سے 80 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں۔ عدن کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہ سعودی حمایت یافتہ خود ساختہ حکومت کا مرکزی اڈہ اور نام نہاد دارالحکومت ہے۔

یمنی فوج 2015 سے اب تک اس حد تک عدن کے قریب نہیں پہنچ پائی تھی۔

اسی اثناء میں، انصاراللہ کی افواج نے آل سعود کے زیر تسلط سرزمین پر بھی اپنے حملوں کی شدت بڑھا دی ہے۔

روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا: "انصاراللہ کی پیش قدمی عدن کو محصور شہر تعز سے ملانے والی مرکزی شاہراہ کے ساتھ واقع اسٹریٹجک مقامات کو سعودی ملیشیاؤں کے لئے خطرے سے دوچار کر چکی ہے؛ وہ راستہ جو جنوب مغربی یمن [سعودی اجرتیوں] کے لئے شہ رگ حیات سمجھا جاتا ہے۔”

روئٹرز کے مطابق، یہ پیش قدمی ایک وسیع تر کاروائی کے بعد ہو رہی ہے جو ستمبر میں شروع ہوئی اور یمنی فوج نے ملک کے مغربی ساحل کو آزاد کرا لیا اور آبنائے باب المندب کے ساتھ واقع علاقوں پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا؛ وہ آبنائے جو دنیا کی اہم ترین بحری گذرگاہوں میں سے ایک ہے اور ساتھ ہی سعودی عرب کی تیل برآمدات کا مرکزی راستہ بھی ہے۔

روئٹرز نے فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ یہ پیش قدمی یمنی فوج کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ آبنائے باب المندب مسلط بالائی علاقوں اور پہاڑی سلسلوں کے ساتھ سعودی احرتی ملیشیاؤں کو کو محاصرے میں لے سکے۔

اس رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عدن پر یمنی فوج کے حملوں کی شدت میں اضافہ ہؤا ہے۔ یمنی افواج نے بدھ کے روز رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دینے کے بعد عدن ایئرپورٹ پر بمباری کی۔

واضح رہے کہ یمنی فوج نے اس سے قبل صدارتی محل "المعاشیق” پر کامیاب میزائل حملے کئے تھے۔

آج یمنی فوج اور سعودی اجرتی ملیشیاؤں کے درمیان "طور الباحہ” کے داخلی راستے پر واقع ایک فوجی چھاؤنی میں جھڑپیں جاری رہیں، جو عدن کی طرف جانے والے مرکزی راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ چھاؤنی لحج صوبے کے مرکز سے تقریباً 50 کلومیٹر اور عدن سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ان ذرائع کے مطابق، یمنی فوج نے تین روز قبل "المقاطرہ” (صوبہ لحج) میں سعودی عناصر کے ٹھکانوں پر اپنے حملے شروع کئے اور اس وقت سے اب تک اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ پہاڑی علاقہ تعز سے عدن جانے والی شاہراہ کے اوپر واقع ہے اور مذکورہ سڑک کی سلامتی اس علاقے پر مسلط افواج کے رحم و کرم پر ہے۔

روئٹرز نے آخر میں بتایا کہ یمنی فوج نے آج ریاض کے اجرتی ملیشیاؤں کو اس علاقے سے طور الباحہ کی طرف پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ سڑک سعودی اجرتی ملیشیاؤں کے زیر کنٹرول علاقوں اور شہر تعز کے درمیان رابطے کا باقی ماندہ آخری ذریعہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے