◷

ایران کی سات شرطیں

3 نومبر 2026

امریکہ کا ایران کے مطالبات کا جواب اطمینان بخش نہیں تھا، میجر جنرل رضائی

سلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے کہا کہ امریکہ کا جواب اطمینان بخش نہیں تھا۔ /  امریکہ کو ایران کی سات شرطوں کا مکمل اور واضح جواب دینا، اور ان پر عمل کرنا، چاہئے؛ صرف اسی صورت میں آبنائے ہرمز کھلے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل محسن رضائی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر لکھا:

– ایران کے حقوق اور مطالبات کا امریکی جواب اطمینان بخش نہیں تھا؛

– امریکیوں کو ایران کی سات شرطوں کا مکمل اور واضح جواب دینا اور ان پر عمل کرنا چاہیے؛

– صرف اسی صورت میں آبنائے ہرمز کھلے گا۔

جنرل رضائی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی حکام اور سیاسی شخصیات نے بارہا زور دیا ہے کہ اس بار امریکہ کو کسی بھی سنجیدہ مذاکرات کے آغاز سے قبل ایران کی شرطیں پوری کرنا ہوں گی اور تہران کا ارادہ نہیں ہے کہ وہ ایک بار پھر بغیر ضمانت اور عملی اقدام حاصل کئے بغیر، گفتگو کے عمل میں داخل ہو۔

اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے اس سے قبل واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ ایران کی سات شرطیں امریکی فریق کو منتقل کر دی گئی ہیں اور ان پر عمل درآمد ہونے تک نہ آبنائے ہرمز کھلے گا اور نہ کوئی مذاکرات ہوں گے۔

انھوں نے زور دیا کہ ایران کو مذاکرات کی کوئی جلد نہیں ہے اور امریکہ ہی ہے جسے عملی اقدام سے ـ اپنے اوپر ـ کھویا ہؤا اعتماد بحال کرنا چاہئے۔

اس سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے بھی  زور دے کر کہا تھا کہ جب تک ایران کی سات شرطیں پوری نہ ہوں، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گا اور گفتگو کے راستے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔

گذشتہ ہفتے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے میجر جنرل رضائی کے نام ایک خط بھیجا تھا۔

قبل ازیں بھی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے ایران کی 7 شرطوں کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا تھا: جب تک ہماری شرطوں پر عملدرآمد نہیں ہو گا، آبنائے ہرمز کھلے گا اور نہ ہی کوئی مذاکرات ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے