یورپ کی موجودہ تشویش پر ایران کا طنز، شام ہونے سے پہلے دن کی تعریف مت کرو!
جرمنی میں ایران کے سفیر نے اپنے ملک کے خلاف جارحیت پر خاموشی اختیار کرنے والے یورپ پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج وہ اسی جارحیت کے نتائج پر تشویش ظاہر کر رہا ہے۔
جرمنی میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے سفیر مجید نیلی نے مغربی حکومتوں کے موقف پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ملکوں نے ایران پر امریکا اور صیہونی حکومت کی جارحیت پر خاموشی اختیار کی تھی، وہ آج اسی جارحیت کے معاشی نتائج پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
انھوں نے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ جن لوگوں نے کل خاموشی یا غیر ذمہ دارانہ موقف اختیار کرکے ایران پر امریکا اور اسرائیلی حکومت کی جارحیت کا خیرمقدم کیا تھا، وہی آج اپنے ملکوں میں اسی جارحیت کے معاشی نتائج پر تشویش میں مبتلا ہیں؟
ایران کے سفیر نے اپنے پیغام میں ایک جرمن ضرب المثل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: "Man soll den Tag nicht vor dem Abend loben” جس کا مطلب ہے: "شام ہونے سے پہلے دن کی تعریف نہیں کرنی چاہیے۔”
یہ سفارتی طنز ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کے معاشی اثرات، یورپی ممالک کی معیشت پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں۔
جرمنی کی ایک تازہ سرکاری رپورٹ کے مطابق، اس ملک میں توانائی کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے اسی مہینے (اکتوبر) کی نسبت 12.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جرمنی میں عمومی افراط زر کی شرح بھی اسی ماہ 2.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یوروسٹیٹ کی رپورٹ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ستمبر میں یورو زون کی افراط زر کی شرح 3.8 فیصد تک پہنچ گئی اور اس خطے میں توانائی کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 18.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، یورو زون میں سالانہ افراط زر میں اضافے کا سب سے بڑا حصہ توانائی کا رہا ہے۔
اسی دوران یورونیوز نے رپورٹ دی ہے کہ یورپ میں قدرتی گیس کی قیمت کا انڈیکس 2022 کے بعد پہلی بار 100 یورو فی میگاواٹ گھنٹہ کی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت شروع ہونے سے پہلے یہ قیمت تقریباً 32 یورو تھی۔



