خطے کی سلامتی کے لیے سات سمندر پار بیٹھے مجرموں کی ضرورت نہیں: صدر ایران
صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے انسانی حقوق کے معاملے پر مغرب کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے سات سمندر پار سے آنے والے جرائم پیشہ لوگوں کی ضرورت نہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے آج جمعرات، 29 اکتوبر2026 کو محافظین ماحولیات کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےاسلامی انقلاب کے بانی، شہید رہبر اور حالیہ جارحیت کے دوران شہید ہونے والے تمام افراد، بالخصوص ماحولیات کے تحفظ کے دوان شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
صدر پزشکیان نےخطے کے ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے تمام ممالک ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ہم سب مل کر خطے کی سلامتی کا تحفظ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "خطے کی سلامتی کے لیے ہمیں دنیا کے دوسرے کونے سے آنے والے ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو خود جرائم کرتے ہیں یا مجرموں، قاتلوں اور دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں، اور پھر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے سلامتی قائم کریں گے۔”
صدرِ ایران نے بعض غیر ملکی طاقتوں کے متضاد اقدامات اور دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ” جرائم کا کھلے عام ارتکاب کرنے کے بعد وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟ کیا میناب کے بچے دہشت گرد تھے؟
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے میناب کے اسکول پر امریکی بمباری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معصوموں کا خون بہانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جانے کی ضرورت ہے۔
انسانی حقوق کے معاملے میں یورپ کے دوہرے معیار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ دوسرے ممالک میں کوئی معمولی سا مسئلہ پیش آ جائے تو یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی پاسداری نہیں ہو رہی، اور مگرمچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں۔
صدر نے کہا کہ یقیناً ہمارے ہاں بھی مسائل موجود ہیں اور ہمیں انہیں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن جن لوگوں کے ہاتھ بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگین ہیں، انہیں انسانی حقوق کا راگ الاپنے حق ہے اور نہ ہی دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں۔
صدرِ ایران نے مزید کہا کہ اپنے اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ فوجی طاقت پر خرچ کرتا ہے اور یہ اخراجات لوٹ مار، استحصال اور مجرمانہ سرگرمیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ خود کو انسانی حقوق کا علمبردار بھی ظاہر کرتا ہے۔



