دنیا میں توانائی کی سیکورٹی کے لئے ملکوں کے قومی اقتدار اعلی کے احترام پر زور
اسلامی جمہوریہ ایران کے قائم مقام وزیر تیل نے دنیا میں توانائی کی سیکورٹی کا انحصار ملکوں کے قومی اقتدار اعلیٰ کے احترام پر قرار دیا ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کے قائم مقام وزیر تیل، حمید بورد نے پیر 26 اکتوبر کو ماسکو میں، گیس برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم جی ای سی ایف کی وزارتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ توانائی کا موجودہ بحران، ایرانی قوم پرامریکا اورصیہونی حکومت کی مسلط کردہ جںگ کا نتیجہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس بحران نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ توانائی کی سیکورٹی، صرف اقتصادی اور تکنیکی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ علاقائی امن واستحکام، حیاتی اہمیت کے بنیادی ڈھانچوں کی سیکورٹی اور ملکوں کے قومی اقتدار اعلیٰ سے بہت گہرا تعلق رکھتی ہے۔
ایران کے قائم وزیرتیل نے کہا کہ اس بحران نے ثابت کردیا ہے کہ اس طرح کی فوجی جارحیتوں کے نتائج، صرف کسی ملک یا علاقے کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کی سیکورٹی اور اقتصادی ترقی کو متاثر کرتے ہیں۔
انھوں نے خلیج فارس سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں امریکا کی فوجی جارحیت اور مداخلت، نیز خودسرانہ اقتصادی پابندیوں کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت نے عالمی مںڈیوں میں توانائی کی سپلائی، سرمایہ کاری کی سیکورٹی اور اعتماد کی فضا پر بھی منفی اثرات مرتب کئے۔

حمید بورد نے عشروں سے جاری پابندیوں اور ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگوں کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان جنگوں اور پابندیوں کے باوجود، قدرتی گیس کی پیداوار سالانہ تقریبا، 300 ارب مکعب میٹرکی سطح تک پہنچا دی گئی اور آج ایران دنیا کے گیس پیدا کرنے والے تین بڑے ملکوں میں شامل ہے۔




