امریکہ کی فوجی مداخلت توانائی کے تحفظ اور عالمی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ ہیں: صدر ایران
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ کی مسلسل فوجی مداخلت نے توانائی کی منڈی اور عالمی اقتصادی ترقی کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران، گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے دائرہ کار میں کثیرالجہتی سفارت کاری کے فروغ، علم و تجربے کے تبادلے اور گیس کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے آج منگل کے روز روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہونے والے گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (GECF) کے آٹھویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ کی فوجی مداخلت پر کڑی نکتہ چینی کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی مداخلت کے اثرات صرف علاقائی فریقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ توانائی کی قیمتوں کے تعین، رسد اور ترسیل کے عمل میں شدید اتار چڑھاؤ اور خلل پیدا کرتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں اقتصادی ترقی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
پزشکیان نے عالمی توانائی کی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فورم کے رکن ممالک کو دو شعبوں، یعنی حکمتِ عملی کی سطح پر خودمختاری و انتظامی اور فنی آپریشنز میں باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ حکمتِ عملی کے شعبے میں بنیادی توجہ منڈی کے استحکام اور علاقائی و عالمی سطح پر قدرتی گیس کی تجارت کا حجم بڑھانے کے طریقوں پر ہونی چاہیے۔
صدر ایران نے مزید کہا کہ مذاکرات کے عین وسط میں دو مرتبہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت عالمی سلامتی کے خلاف افسوس ناک اور خطرناک واقعات میں سے ایک تھی۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا جس سے نہ صرف توانائی کی ترسیل میں خلل پیدا ہوا، بلکہ توانائی کا تحفظ اور عالمی معیشت خطرے میں پڑ گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ممالک کے خلاف یک طرفہ پابندیاں عائد کرنا، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بحری اور فضائی ناکہ بندی کی صورت میں امریکہ کی جانب سے اقتصادی دہشت گردی کا ارتکاب کرنا، اور دیگر ممالک پر دباؤ ڈالنا بھی ایسے غیر قانونی اقدامات ہیں جن سے توانائی کی منڈیوں کا استحکام شدید خطرات سے دوچار ہے۔
صدر پزشکیان نے زور کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے بانی ارکان میں سے ایک ہونے اور قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر رکھنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہونے کے ناطے، اس پلیٹ فارم کے تحت کثیرالجہتی سفارت کاری کے فروغ، علم و تجربے کے تبادلے اور گیس کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی اہم ترین توانائی راہداریوں کے مرکز میں واقع اپنی تزویراتی پوزیشن کے باعث ایران عالمی سطح پر توانائی کے نظام کی پائيداری اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنے کی فطری استعداد رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی گیس صنعت میں موجود صلاحیتیں فورم کے رکن ممالک کے نجی شعبوں کے لیے قدرتی گیس کی تلاش و پیداوار، اس کے بعد کے صنعتی مراحل اور گیس کی تجارت کے شعبوں میں تعاون کے موزوں مواقع فراہم کرتی ہیں۔
پزشکیان نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار بلا کسی تشویش کے تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل صنعتوں میں فراہم کی جانے والی مراعات اور سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور مشترکہ مفادات کے دائرے میں ایران کی غیر معمولی صلاحیتوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔



