باقری: چارفریقی تہران نشست،ایرانی عوام کی مقاومت اور مسلح افواج کی شجاعت کا نتیجہ ہے
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری نے چار فریقی تہران نشست کو ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مقاومت و شجاعت کا نتیجہ قرار دیا ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری نے تہران میں، ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے چار فریقی اجلاس کو اہم قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج سبھی اس حقیقت کو تسلیم کررہے ہیں کہ رہبر معظم کی ہدایات اور تدابیر کے تحت، ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مقاومت نے امریکا کو ناکامی اور لاچاری سے دوچار کردیا ہے۔
علی باقری نے کہا کہ صیہونی حکومت بھی ایران کے خلاف جارحیت کے اہداف میں ناکام رہی اور آج اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری نے کہا کہ خطے کے بعض ممالک سمجھ رہے تھے کہ امریکا جیسی بڑی طاقت سے وابستہ ہوکر ہر طرح کے خطرے سے محفوظ ہوجائيں گے لیکن عملاً دیکھ لیا کہ ان کا یہ تصور غلط تھا۔
انھوں نے کہا کہ علاقے کے ممالک اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خطے میں علاقائی ملکوں کے باہمی تعاون سے ہی سلامتی قائم ہوسکتی ہے اور خطے کے معاملات حل کئے جاسکتے ہیں۔
انھوں نے صیہونی حکومت کو خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کا بنیادی عامل قرار دیا اور کہا کہ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ علاقے کے بہت سے ملکوں پر مشتمل ہے۔



