جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں 351 بچے شہید ہو چکے ہیں: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ کی پٹی میں 351 فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں۔
فلسطینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگ بیڈر نے بچوں کے شہید یا زخمی ہونے کے واقعات کے لیے شفاف اور ٹھوس تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جو کہ بچوں کی مستقل معذوری کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صرف گزشتہ 6 دن کے دوران 8 بچے شہید اور 20 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر نے اس بات پر زور دیا کہ صیہونی حکومت کو مزید تشدد کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہئیں، شہریوں اور فوجی اہداف کے درمیان علیحدگی کے اصول پر عمل کرنا چاہیے اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق بچوں کے لیے خصوصی تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
ایڈوارڈ بیگ بیڈر نے مزید کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد کی یہ سطح ناقابل قبول ہے اور جو بچے حملوں میں بچ جاتے ہیں انہیں غزہ کے صحت کے نظام کی تباہی کی وجہ سے ان کی جسمانی اور ذہنی بحالی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
یونیسیف نے بھی گزشتہ ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ غزہ میں تقریباً آٹھ لاکھ بچے بے گھر ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 60 ہزار بچے جنگ کے دوران یا جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے ایک یا دونوں والدین سے محروم ہوچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے تقریباً تمام بچوں کو مسلسل بے گھر ہونے اور بنیادی خدمات رسانی کی خراب صورتحال کے درمیان نفسیاتی مدد کی بھی اشد ضرورت ہے۔



