سعودی عرب بحیرہ احمر میں عسکری رنگ دینے کے نتائج کا ذمہ دار ہے: یمن
یمن کی وزارت خارجہ نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ یمن بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے جبکہ سعودی عرب پر کشیدگی بڑھانے اور اس آبی گزرگاہ کو عسکری رنگ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
المسیرہ نیٹ ورک کے مطابق، یمنی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہماری جانب سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے، اور اس سمندری راستے کو عسکری رنگ دینے کے نتائج کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوتی ہے۔
یمن کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کھلے سمندر میں مجرمانہ کارروائیاں کرکے کشیدگی میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی مداخلت کی راہ ہموار کرنا ہے تاکہ خود کو اپنی پیدا کردہ مشکلات سے باہر نکال سکے۔
یمنی وزارت خارجہ نے بحیرہ احمر کے پانیوں میں بار بار ہونے والی مجرمانہ کارروائیوں کی مذمت کی اور اس آبی گزرگاہ کو عسکری رنگ دینے کی سعودی کوشش کا ثبوت قرار دیا۔
یہ بیان یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ تھا کہ سعودی عرب نے ’زقر‘ (Zuqar) جزیرے کے قریب 14 افراد پر مشتمل ایک ہندوستانی تفریحی کشتی کو نشانہ بنایا جبکہ یمنی مسلح افواج نے مداخلت کرکے کشتی پر سوار افراد کو بچا لیا۔



