بیانیوں کی جنگ میں ایران کی فتح؛ صہیونی مشیر سیخ پا
ایک صہیونی مشیر نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی عوام کی رائے عامہ پر ایران کے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جیو پولیٹیکل اور اسٹراٹیجک رابطوں کے مشیر، یووال ڈیوڈ (Yuval David)، نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں تشویش ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل میں رائے عامہ پر اثر ڈالنے کی ایرانی حکمت عملی مؤثر رہی ہے۔
یووال ڈیوڈ ـ جو امریکی اور اسرائیلی حکام کا قریبی سمجھا جاتا ہے ـ نے کہا کہ ایران "امریکی اور اسرائیلی معاشروں کو اندر سے بوسیدگی (rottenness)” سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس منصوبے میں کافی حد تک کامیاب رہا ہے۔
ڈیوڈ نے انتباہ کرتے ہوئے کہا: ایران نے ایک "میڈیا وار سسٹم” کا آغاز کیا ہے کہا، اور "یہی جنگ وہ چیز ہے جو اب سوشل نیٹ ورکس پر، ہمارے آلات کے ذریعے اور ان لوگوں کے درمیان ہو رہی ہے جو ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، ایکس، یوٹیوب اور دیگر سوشل نیٹ ورک پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں؛ یہی وہ [امریکی-اسرائیلی] پلیٹ فارمز ہیں جن کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران، لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔”
ڈیوڈ نے مزید کہا: "اس مہم کا ایک مقصد معاشروں کے اندر سے ایک قسم کی بوسیدگی (rottenness) پیدا کرنے کی کوشش ہے اور بدقسمتی سے، یہ کوشش کافی حد تک کامیاب رہی ہے۔”
فاکس نیوز کے مطابق یہ انٹرویو ہنگری کے دارالحکومت بوداپست میں لیا گیا اور یووال ڈیوڈ اس سفر میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ گئے ہونے وفد کا رکن تھا۔
حالیہ سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے بعد صہیونی رجیم امریکہ سمیت دنیا بھر کے عوام کی رائے عامہ میں ناپسندیدہ ریاست بن گئی ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر نے چند ماہ قبل 36 ممالک میں جو سروے کیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھنے والے افراد کی اوسط شرح 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے؛ نیز ممکنہ موازنے کے مطابق، ان ممالک میں سے نصف سے زیادہ لوگوں میں، گذشتہ سال کے مقابلے میں، اسرائیل کے بارے میں منفی رائے میں اضافہ ہؤا ہے۔
اسی مرکز نے اپریل 2026 میں شائع ہونے والے ایک اور سروے کی رو سے، بتایا تھا کہ اسرائیل کے بارے میں ناپسندیدگی پر مبنی رائے رکھنے والے امریکی بالغ افراد کی تعداد میں 2025 میں 53 فیصد، سے بڑھ کر 2026 میں 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی مدت میں اسرائیل کے بارے میں پسندیدگی پر مبنی رائے 45 سے کم ہو کر 37 فیصد رہ گئی۔



