آئی ایم ایف کا طویل جنگوں اور توانائی کی منڈی میں خلل کی بابت انتباہ
عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے مغربی ایشیا میں طویل جنگوں اور توانائی کی پیداوار پر اس کے منفی اثرات کی بابت سخت خبردار کرتے ہوئے اس صورتحال کو علاقائی معیشتوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک سینئر عہدیدار نے ایران کے خلاف امریکی جارحیت اور خطے کی کشیدگی کے درمیان پائے جانے والے براہ راست تعلق کی جانب کوئی اشارہ کیے بغیر خبردار کیا ہے مشرق وسطیٰ میں طویل جنگیں اور توانائی کی پیداوار، جہاز رانی میں روکاوٹیں اور اہم انفراسٹرکچر کی تباہی مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی معیشتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
خـبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازور نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جنگ نے خطے کے ممالک کو انتہائی غیر مساوی اقتصادی جھٹکے لگائے ہیں، جس سے ان ممالک کو براہ راست نقصان پہنچا جو پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ازور نے بنکاک میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ "مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ توانائی کی پیداوار اور تجارت کو معمول پر لانے میں کتنی تیزی سے پیشرفت ہوتی ہے اور ممالک کس حد تک مائیکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔”
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ازور کے حوالے سے کہا کہ عالمی سطح پر توقع یہ ہے کہ 2025 میں 3.3 فیصد شرح نمو کے بعد مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں 1.3 فیصد تک اقتصادی سکڑاؤ آسکتا ہے۔
ازور نے کہا کہ 2027 میں خطے کی اقتصادی ترقی کے 6.6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، تیل برآمد کرنے والے ممالک جو جنگ سے براہ راست متاثر ہوئے تھے، 2026 میں شدید اقتصادی سکڑاؤ کا سامنا کریں گے اور 2027 میں توانائی کی پیداوار معمول پر آنے کے بعد بحالی ہو جائے گی، لیکن ان کی پیداوار بدستور جنگ سے پہلے کی سطح پر باقی رہنے کی توقع ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کا سالانہ اجلاس تھائی لینڈ میں 12اکتوبر سے شروع ہوا ہے جو 18 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پہلے اپنی دو سالہ رپورٹ میں توانائی کے ہنگامی ذخائر میں کمی اور حکومتی بجٹ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عالمی اقتصادی قوت برداشت کو بہت جلد جھٹکے لگ سکتے ہیں۔
"ورلڈ اکنامک آؤٹ لک” کے عنوان سے اپنی دو سالہ رپورٹ میں مالیاتی ادارے نے اعلان کیا کہ عالمی شرح نمو نے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا مقابلہ پچھلے 6 ماہ میں توقع سے بہتر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی کو دوبارہ روٹ کرنا اور توانائی کے اسٹریٹجک ذخائر کے استعمال نے تیل کی قیمتوں پر امریکہ ایران جنگ کے اثرات کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
تاہم، عالمی مالیاتی ادارے نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ہنگامی ذخائر اب ختم ہو چکے ہیں اور بہت سے ممالک کے قرضوں اور بجٹ کے خسارے کی بلند سطح حکومتوں کی مستقبل میں قیمتوں میں اضافے سے صارفین کو بچانے صلاحیت کو محدود کر سکتی ہے۔



