یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے باب المندب پر قبضے کی کوشش میں سعودی حمایت یافتہ کرائے کے فوجیوں کی ناکامی کا اعلان کیاہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان، یحییٰ سریع نے بتایا کہ باب المندب کی جانب پیش قدمی کے لیے سعودی حمایت یافتہ کرائے کے فوجیوں کے بڑے پیمانے پر کیے گئے آپریشن کا یمنی افواج نے فیصلہ کن جواب دیا اور بھرپور دفاع کیا، جس کے نتیجے میں یہ آپریشن ناکام ہو گیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اسٹریٹجک محاذ پر جارح افواج کی نقل و حرکت زمینی سطح پر کوئی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی اور انہیں پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
سریع نے کہا کہ یہ شکست اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سعودی فریق یمنی مسلح افواج کے زیرِ کنٹرول حساس علاقوں میں عسکری توازن تبدیل کرنے سے قاصر ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمنی رہائشی علاقوں پر سعودی عرب کے 66 فضائی حملے
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے بھی اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے رہائشی علاقوں پر 66 فضائی حملے کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خمیس مشیط اور طائف کے فضائی اڈوں سے اڑان بھرنے والے سعودی ایف-15 اور ٹائفون لڑاکا طیاروں نے الجوف، تعز، مآرب، الحدیدہ، حجہ اور صعدہ کے صوبوں میں شہری بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی۔
یحییٰ سریع کے مطابق، ان حملوں میں متعدد شہری—خاص طور پر خواتین اور بچے—شہید اور زخمی ہوئے۔
حالیہ حملوں کے بعد، دشمنی کے نئے دور کے آغاز سے اب تک سعودی فضائی اور میزائل حملوں کی کل تعداد 1,642 تک پہنچ گئی ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے اس سے قبل یمن کے صوبہ تعز کے ایک ضلع میں سعودی حمایت یافتہ کرائے کے فوجیوں کے اجتماعات پر حملے کا اعلان کیا تھا۔
یحییٰ سریع نے بتایا کہ صوبہ تعز کے ضلع ‘الوازعیہ’ کے جنوب مغرب میں تعینات یمنی مسلح افواج نے کرائے کے فوجیوں کے اجتماعات پر حملہ کر کے علاقے میں ان کی پیش قدمی کو روک دیاگیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپ کے دوران کرائے کے فوجیوں کی متعدد گاڑیاں اور بکتر بند یونٹ تباہ ہو گئے، اور درجنوں افراد شہید یا زخمی ہوئے ہیں۔
سریع کے مطابق، ان کرائے کے فوجیوں کی حمایت کرنے والی فورسز کے اجتماعات کو بھی کئی بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہواہے۔



