◷

اسلامی مقدسات کے دفاع کے لیے ہمیشہ تیار ہیں : صنعا

2 اکتوبر 2026

اسلامی مقدسات کے دفاع کے لیے ہمیشہ تیار ہیں/سعودی الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں: حکومت صنعا کا واضح اعلان

یمنی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ صنعا نے اسلامی مقدسات کے دفاع کے لیے مسلسل قربانیاں دی ہیں، اور واضح کیا کہ درحقیقت سعودی حکومت ہی ان مقدس مقامات کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سبا) کے مطابق، یمن وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی حکومت اسلامی مقدسات کے بارے میں اپنے جھوٹے اور توہین آمیز بیانیے کو دہرانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور ان مقامات کے تقدس اور حرمت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔

وزارت نے مزید زور دیا کہ یمن نے ہمیشہ اسلامی مقدسات کے دفاع کے لیے قربانیاں دی ہیں اور سعودی حکومت اس سلسلے میں یمن پر الزامات عائد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

صنعا نے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب میں اسلامی مقدسات پر یمنی حملے کا الزام ایک پڑوسی ملک میں سعودی حکومت کے نمائندوں اور صیہونیوں کے درمیان ہونے والی خفیہ ملاقات کا نتیجہ ہے۔

یمنی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی حکومت میں حرمین شریفین اور دیگر اسلامی مقدسات کا انتظام سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ  مقدس مقامات کو مجرم صیہونی حکومت کے لیے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں تبدیل کرنا اسلامی مقدسات کی کھلی توہین ہے۔

ارنا کے مطابق، اس سے قبل یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ نے مہدی مشاط نے کہا تھا کہ ہم سعودی حکومت کو مکہ و مدینہ اور مسجد الحرام اور مسجد نبوی پر کسی بھی حملے، نیز ایسے جرائم کو یمن کے مسلمان عوام سے منسوب کرنے کی کوششوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔   

انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے مسلمان عوام نے مسجدِ اقصیٰ کے دفاع میں امریکہ، برطانیہ اور غاصب اسرائیلی حکومت جیسی بڑی عسکری طاقتوں کے خلاف زبردست جنگ لڑی ہے اور وہ مکہ، مسجدِ الحرام، مدینہ اور مسجدِ نبوی کے دفاع کے لیے بھی مکمل تیار ہیں۔

یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ نے نشاندہی کی کہ سعودی حکومت کا انہی جھوٹوں کو دہرانا—جن سے اب کوئی دھوکہ نہیں کھاتا—مسلمانوں کی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کی ایک مایوسانہ کوشش ہے۔

انہوں نے امتِ مسلمہ پر زور دیا کہ وہ سعودی حکومت کے جھوٹ پروپیکنڈے سے متاثر نہ ہوں، جس نے حرمین شریفین کی مقدس سرزمین کو تفریح ​​اور رقاصوں کی میزبانی کا مرکز بنا دیا ہے اور تفریحی سرگرمیوں کی آڑ میں بے حیائی کے دروازے کھول دیے ہیں۔

المشاط نے نشاندہی کی کہ جب ایک صدی قبل اس کی عسکری افواج مکہ میں داخل ہوئیں اور وہاں قبضہ کر لیا تو یہ سعودی حکومت ہی تھی جس نے مسجدِ الحرام، اسلامی مقدس مقامات اور حج کے قافلوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔

انہوں نے سعودی حکومت کو مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں سب سے بڑی جارحیت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکومت نے مساجد اور صحابہ کرام کے مزارات کے ساتھ ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ام المومنین حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کے گھروں کو بھی تباہ کردیا ہے۔

جمعرات کے روز سعودی عرب نے دعویٰ کیا کہ مدینہ میں واقع پاور پلانٹ کو یمنی مسلح افواج نے نشانہ بنایا ہے—ایک ایسا دعویٰ جسے صنعا نے مسترد کرتے ہوئے اسے یمنی عوام کے خلاف ریاض کی جانب سے گھڑا گیا جھوٹ قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے