صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کی شب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے ایسے وقت خطاب کیا جب درجنوں وفود نے ان کی موجودگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہال سے واک آؤٹ کیا۔ تقریباً 40 منٹ تک جاری رہنے والی ان کی تقریر خالی نشستوں کے سامنے ہوئی۔
نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں غزہ اور مغربی کنارے سے متعلق اپنی کابینہ کی پالیسیوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی اور ایران، قطر، ترکی اور فرانس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
خبر رساں ایجنسی شہاب نے ایک تجزیے میں لکھا کہ نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ایک قابلِ ذکر منظر دیکھنے میں آیا، جب درجنوں وفود نے ان کی موجودگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے ہال سے واک آؤٹ کیا۔ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں غزہ اور مغربی کنارے میں اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرنے کے ساتھ ایران، قطر، ترکی اور فرانس پر زبانی حملے کیے اور مقبوضہ فلسطین کے عوام کو بھی براہِ راست پیغامات دینے کی کوشش کی۔
نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب سے قبل کہا تھا کہ وہ اپنی تقریر میں ’’حیران کن باتیں‘‘ کریں گے، تاہم ان کی تقریر کے بیشتر حصے میں وہی مؤقف دہرایا گیا جو غزہ جنگ کے آغاز سے ان کی کابینہ پیش کرتی رہی ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر انسانی امداد، آبادکاروں کے تشدد، 7 اکتوبر کے واقعات، بیت لحم کی صورتحال اور فلسطینیوں کو درپیش حالات کی ذمہ داری سے تل ابیب کو بری کرنے سے متعلق متعدد دعوے کیے۔
1۔ آبادکاروں کے تشدد کی اہمیت کم ظاہر کرنا
نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں کو نوجوانوں کے ایک محدود گروہ تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 150 افراد پتھراؤ، زیتون کے درخت کاٹنے اور کبھی کبھار آگ لگانے جیسے اقدامات میں ملوث ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد دو یا تین سے زیادہ نہیں ہے۔
تاہم اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے اعداد و شمار نیتن یاہو کی پیش کردہ تصویر سے مختلف صورتحال ظاہر کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے گزشتہ برسوں کے دوران آبادکاروں کے حملوں اور ان کے نتیجے میں زخمی ہونے، ہلاکتوں، بے دخلی، املاک اور زرعی زمینوں کی تباہی میں مسلسل اضافے کو ریکارڈ کیا ہے۔ 2026 میں بھی ایسے حملوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بلند سطح پر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ان حملوں کے اثرات صرف زخمی ہونے یا مالی نقصان تک محدود نہیں رہے بلکہ فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے ساتھ مل کر یہ حملے درجنوں فلسطینی آبادیوں کے مکمل یا جزوی انخلا کا سبب بھی بنے ہیں۔ اس طرح آبادکاروں کا تشدد فلسطینی علاقوں سے لوگوں کی بے دخلی کا ایک اہم عامل بن چکا ہے۔
آبادکاروں کے حملوں کو صرف نوجوانوں کے ایک محدود گروہ کی کارروائی قرار دینا اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرتا ہے کہ غیر قانونی آبادکاری کے عمل سے وابستہ اہم لوگ نیتن یاہو کی کابینہ میں وزارتی عہدوں پر فائز ہیں، جبکہ فلسطینی دیہات، آبادیوں، شہریوں کی املاک اور زرعی زمینوں پر غیر قانونی آبادکاروں کے حملے بدستور جاری ہیں۔
2۔ انسانی امداد کی چوری
نیتن یاہو نے انسانی امداد کے معاملے میں ایک بار پھر صہیونی حکومت کا یہ مؤقف دہرایا کہ حماس غزہ میں داخل ہونے والی زیادہ تر امداد پر قبضہ کر لیتی ہے۔ صہیونی کابینہ نے غزہ میں امداد کی ترسیل اور تقسیم پر عائد پابندیوں کے جواز کے طور پر بھی اس مؤقف کو استعمال کیا ہے۔
تاہم امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کی جانب سے اکتوبر 2023 سے مئی 2025 کے دوران اس کے شراکت داروں کے رپورٹ کردہ واقعات کے جائزے میں ایسی کوئی شہادت نہیں ملی کہ دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں نے امداد کی منظم چوری کی ہو۔
اس جائزے میں امداد کی چوری یا گمشدگی کے 156 رپورٹ شدہ واقعات شامل تھے اور نتائج سے ظاہر ہوا کہ ایک فیصد سے بھی کم امداد چوری، غیر قانونی منتقلی یا ضیاع سے متاثر ہوئی۔
یہ صورتحال غزہ کے انسانی بحران کی وضاحت کے لیے زیادہ تر امداد کی چوری کو ایک مستقل حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتی۔
نیویارک ٹائمز نے بھی صہیونی فوجی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج کو اقوام متحدہ کے امدادی مراکز سے حماس کی جانب سے امداد کی منظم چوری کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
دوسری جانب انسانی امدادی ادارے بارہا غزہ میں امداد پہنچانے، اسے تقسیم کرنے اور ضرورت مند آبادی تک پہنچانے میں درپیش مشکلات کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں۔
3۔ بھوک کو ایک منظم پالیسی کے طور پر پیش کیے جانے کے الزامات
غزہ کی انسانی صورتحال پر عائد الزامات کا جواب دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ دو ملین ٹن غذائی اشیا غزہ میں داخل کیا گیا اور پولیو ویکسین کی 10 لاکھ خوراکیں فراہم کی گئیں۔ انہوں نے ان اعداد و شمار کو غزہ میں بھوک اور نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرنے کے لیے استعمال کیا۔
تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی امداد کی مقدار اپنے طور پر وہاں کی انسانی صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ بین الاقوامی اداروں نے جنگ کے دوران غزہ کے باشندوں کو خوراک تک رسائی میں وسیع مشکلات ریکارڈ کی ہیں اور غذائی عدم تحفظ کی خطرناک سطح کی نشاندہی کی ہے۔ جنگ کے مختلف مراحل میں غزہ کے بعض علاقوں میں قحط کا بھی اعلان کیا گیا۔
اگست 2025 میں مربوط غذائی تحفظ مرحلہ بندی (IPC) نے اعلان کیا کہ غزہ شہر میں قحط موجود ہے۔ اس دوران انسانی امدادی اداروں نے غذائی قلت، بنیادی ضروریات کی کمی اور انسانی ضروریات میں اضافے کے بارے میں خبردار کیا۔
پولیو ویکسینیشن کے حوالے سے بھی یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ مہم عالمی ادارۂ صحت، یونیسف، اونروا اور دیگر صحت کے شعبے سے وابستہ شراکت داروں نے انجام دی تھی۔ یہ مہم غزہ میں عارضی انسانی انتظامات کے تحت ممکن ہوئی۔ اس مہم کا انعقاد غزہ میں صحت اور انسانی حالات کے معمول پر ہونے یا بنیادی ضروریات کی فراہمی کی دلیل نہیں قرار دیا جا سکتا۔
4۔ اعداد و شمار سے مطابقت نہ رکھنے والا دعویٰ
نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بیت لحم کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ جب یہ شہر اسرائیلی قبضے میں تھا تو یہاں واضح اکثریت عیسائیوں کی تھی، لیکن فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کیے جانے کے بعد یہ تقریباً اسی تناسب سے مسلم اکثریتی شہر بن گیا اور عیسائیوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
تاہم بیت لحم کی تاریخی آبادی سے متعلق اعداد و شمار اس شہر کو واضح عیسائی اکثریت والا شہر قرار دینے کی تائید نہیں کرتے۔
1967 کے اعداد و شمار کے مطابق شہر کی آبادی تقریباً 14 ہزار 439 تھی، جن میں عیسائی 46.1 فیصد اور مسلمان 53.9 فیصد تھے۔ اگر بلدیاتی حدود میں واقع پناہ گزین کیمپ کی آبادی کو بھی شامل کیا جائے تو مسلمانوں کا تناسب مزید بڑھ جاتا ہے۔
بیت لحم سے عیسائیوں کی ہجرت کے بارے میں دستیاب اعداد و شمار بھی متعدد عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں اقتصادی و سیاسی حالات، قبضہ، زمینوں کی ضبطی، فوجی چیک پوسٹیں اور بیت سمیت دیگر فلسطینی علاقوں تک رسائی اور نقل و حرکت پر پابندیاں شامل ہیں۔
لہٰذا بیت لحم میں آبادیاتی تبدیلیوں کو صرف فلسطینی اتھارٹی کو شہر کی انتظامیہ منتقل کیے جانے کے بعد عیسائیوں کے ’’اخراج‘‘ کا براہِ راست نتیجہ قرار دینا فلسطینی عیسائیوں کی ہجرت کے بارے میں مختلف مطالعات اور رپورٹس میں بیان کیے گئے وسیع تاریخی و سیاسی پس منظر کو نظر انداز کرنا ہے۔
5۔ ایک بار پھر دہرایا جانے والا دعویٰ
نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں 7 اکتوبر 2023 کے واقعات سے متعلق بعض کہانیاں ایک بار پھر دہرائیں، جن میں حملے کے دوران بچوں اور شیر خواروں کو جلائے جانے کا دعویٰ بھی شامل تھا۔
یہ دعوے جنگ کے ابتدائی دنوں میں بڑے پیمانے پر نشر کیے گئے تھے، تاہم بعد میں صہیونی میڈیا کی تحقیقات میں ان میں سے بعض دعووں کا جائزہ لیا گیا۔
صہیونی اخبار ہاآرتص نے اپنی تحقیقات میں ان دعوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے صہیونی بیمہ ادارے کے اعداد و شمار، کیبوتص کے رہنماؤں اور پولیس کے بیانات کا حوالہ دیا اور لکھا کہ بچوں اور شیر خواروں کے سر قلم کیے جانے سے متعلق کہانیوں کے لیے اس شکل میں شواہد پیش نہیں کیے گئے جس طرح یہ دعوے اس وقت نشر کیے گئے تھے۔
ان تحقیقات میں 10 ماہ کی بچی ’’میلا کوہن‘‘ کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا گیا، جو کیبوتص بئری میں اپنے گھر پر فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہوئی تھی۔ تاہم بچوں کے ایک گروہ کو جلانے یا درجنوں بچوں کے سر قلم کیے جانے سے متعلق دعوے ثابت نہیں ہوئے۔
اس کے باوجود نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی کے سامنے ایک بار پھر یہ کہانیاں پیش کیں اور 7 اکتوبر کے واقعات کے بارے میں صیہونی حکومت کے بیانیے کو مستحکم کرنے اور اسے غزہ میں بعد کی فوجی کارروائیوں کے جواز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
6۔ واقعے کے حقیقی پس منظر کو نظر انداز کرنا
نیتن یاہو نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر تنقید کرتے ہوئے فرانسیسی شہری ’’نتانیئل شکرون‘‘ کا ذکر کیا، جو چھ بچوں کے والد تھے۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ وہ چند روز قبل اپنے بیٹے کے ہمراہ ایک چشمے کی سیر کے دوران ہلاک ہوئے اور حملہ آور حماس کا ایک رکن تھا جس نے قریب سے ان پر فائرنگ کی۔
تاہم اس واقعے کے بارے میں دستیاب معلومات میں حماس کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان یا حملہ آور کی شناخت سے متعلق ایسی تصدیق موجود نہیں تھی جیسا کہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بیان کیا۔
اس کے علاوہ جائے وقوعہ کو صرف ایک ایسے چشمے کے طور پر پیش کرنا جہاں آبادکار سیر کے لیے جاتے ہیں، اس علاقے کی زمینوں پر جاری تنازع کو بھی نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
یہ چشمہ ’’حلمیش‘‘ نامی صہیونی بستی کے قریب واقع ہے۔ آبادکاروں نے اس مقام پر اپنا کنٹرول قائم کیا اور وہاں آبادکاری اور سیاحتی سرگرمیاں شروع کیں، جبکہ فلسطینی زمین کے مالکان کو مختلف ادوار میں اپنی زمینوں تک رسائی سے محروم کر دیا گیا۔
اس علاقے کی تاریخ آبادکاری اور فلسطینیوں کو ان کی زمینوں تک رسائی سے متعلق پابندیوں سے بھی جڑی ہوئی ہے، لیکن نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی تقریر میں اس پس منظر کا ذکر نہیں کیا گیا۔
7۔ ’’کوئی اسرائیلی غزہ میں موجود نہیں تھا‘‘
نیتن یاہو نے ایک اور دعوے میں کہا کہ 7 اکتوبر کو غزہ میں کوئی اسرائیلی، خواہ شہری ہو یا فوجی، موجود نہیں تھا۔ اس طرح انہوں نے غزہ کو ایسا علاقہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جہاں حملے سے قبل اسرائیل کی کوئی موجودگی نہیں تھی۔
یہ بات درست ہے کہ اسرائیل نے 2005 میں غزہ کے اندر سے اپنے آبادکاروں اور مستقل فوجی دستوں کو واپس بلا لیا تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کے بعد غزہ پر اسرائیلی کنٹرول سسٹم بھی ختم ہوگیا تھا۔
اس نظام میں غزہ کی فضائی حدود اور علاقائی پانیوں پر کنٹرول، افراد اور اشیا کی آمدورفت پر وسیع پابندیاں، بعض سرحدی گزرگاہوں کا کنٹرول اور فوجی کارروائیاں و سکیورٹی پابندیاں شامل تھیں۔
بین الاقوامی عدالت انصاف نے 2024 کی اپنی مشاورتی رائے میں کہا تھا کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے ساتھ ہی قبضے کے قانون کے تحت اس کی ذمہ داریاں خود بخود ختم نہیں ہوئیں، بلکہ جب تک اسرائیل اس علاقے پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھتا ہے، یہ ذمہ داریاں بھی برقرار رہتی ہیں۔
ماضی کی متعدد رپورٹس میں بھی 2007 سے غزہ پر عائد محاصرے اور وہاں کے باشندوں اور اشیا کی آمدورفت پر عائد پابندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ صہیونی حکام نے غزہ میں داخل ہونے والی خوراک کی مقدار پر پابندیاں عائد کیں، یہاں تک کہ وسیع پیمانے پر قحط سے بچنے کے لیے درکار کم از کم کیلوریز کا حساب بھی کیا گیا۔
8۔ قطر پر الزامات
نیتن یاہو نے اپنی تقریر کے آخر میں قطر پر اپنے حملے مزید تیز کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قطر نے امریکی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے اور جامعات و میڈیا، بشمول الجزیرہ، کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے تاکہ اسرائیل کے خلاف ’’جھوٹ‘‘ پھیلایا جا سکے اور امریکی نوجوانوں کو متاثر کیا جا سکے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں فلسطینی علاقوں میں صہیونی حکومت کی پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی نوجوانوں کے مؤقف میں تبدیلی کو بیرونی اثر و رسوخ سے جوڑا نہیں جاسکتا۔
امریکہ میں رائے عامہ کے مختلف جائزے بھی فلسطین- اسرائیل تنازع کے حوالے سے مختلف عمر کے گروہوں کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی ظاہر کرتے ہیں۔
فروری میں جاری کیے گئے گیلپ کے ایک سروے کے مطابق، پہلی مرتبہ اس سروے کے آغاز کے بعد 18 سے 34 سال کی عمر کے نصف سے زیادہ امریکیوں نے اسرائیلیوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس عمر کے گروپ میں اسرائیلیوں کے ساتھ ہمدردی کا تناسب 23 فیصد رہا، جو اس گروپ کے لیے اس سروے میں ریکارڈ کی گئی سب سے کم شرح تھی۔
یہ تبدیلی 35 سے 54 سال کی عمر کے گروپ میں بھی دیکھی گئی اور گزشتہ ایک سال کے دوران اس گروپ میں بھی ہمدردی کے رجحانات میں تبدیلی آئی۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی رائے عامہ میں تبدیلی ایک ایسا رجحان بن چکی ہے جسے مختلف سروے میں باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ نیتن یاہو کی جانب سے اس تبدیلی کو قطر کی براہِ راست اثراندازی کا نتیجہ قرار دینا ان کے سیاسی بیانیے کا حصہ ہے۔



