اسرائیلی سفیر کا بیان۔ آذربائیجان اسرائیل کا حصہ ہے

IMG_20250606_005834_381.jpg

IMG_20250606_005834_381.jpg

اسرائیل کے سفیر نے ایک حالیہ انٹرویو میں آذربائیجان کو "اسرائیل کا اثاثہ” قرار دیا ہے، جس پر خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

🔸انہوں نے "اورشلیم پوسٹ” کو دیے گئے انٹرویو میں آذربائیجان اور اسرائیل کے تعلقات کی گہرائی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:

"آذربائیجان و اسرائیل کے تعلقات صدر حیدر علی‌اف کے دور سے قائم ہیں۔ لیکن جیسا کہ صدر الہام علی‌اف نے کہا، یہ تعلقات ایک برفانی تودے کی مانند ہیں جس کا صرف دس فیصد حصہ نمایاں ہوتا ہے۔ اب یہ تعلقات مزید نمایاں اور فعال ہو چکے ہیں۔”

🔹انہوں نے باہمی تعلقات کو چار بنیادی ستونوں پر مبنی قرار دیا:

  1. 🤝 مضبوط سفارتی تعلقات
  2. توانائی کا اشتراک: آذربائیجان اسرائیل کی توانائی کی ضروریات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
  3. 🛡️ سیکیورٹی و دفاعی تعاون: اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیاں برسوں سے آذربائیجان میں سرگرم ہیں، اور یہ ملک ہماری دفاعی مصنوعات کا اہم خریدار ہے۔
  4. 👥 غیر عسکری تعلقات: سفیر کے بقول، آذربائیجان نہ صرف ایک غیرمعمولی اتحادی بلکہ اسرائیل کا اثاثہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے