اسرائیلی سفیر کا بیان۔ آذربائیجان اسرائیل کا حصہ ہے
اسرائیل کے سفیر نے ایک حالیہ انٹرویو میں آذربائیجان کو "اسرائیل کا اثاثہ” قرار دیا ہے، جس پر خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
🔸انہوں نے "اورشلیم پوسٹ” کو دیے گئے انٹرویو میں آذربائیجان اور اسرائیل کے تعلقات کی گہرائی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"آذربائیجان و اسرائیل کے تعلقات صدر حیدر علیاف کے دور سے قائم ہیں۔ لیکن جیسا کہ صدر الہام علیاف نے کہا، یہ تعلقات ایک برفانی تودے کی مانند ہیں جس کا صرف دس فیصد حصہ نمایاں ہوتا ہے۔ اب یہ تعلقات مزید نمایاں اور فعال ہو چکے ہیں۔”
🔹انہوں نے باہمی تعلقات کو چار بنیادی ستونوں پر مبنی قرار دیا:
- 🤝 مضبوط سفارتی تعلقات
- ⚡ توانائی کا اشتراک: آذربائیجان اسرائیل کی توانائی کی ضروریات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
- 🛡️ سیکیورٹی و دفاعی تعاون: اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیاں برسوں سے آذربائیجان میں سرگرم ہیں، اور یہ ملک ہماری دفاعی مصنوعات کا اہم خریدار ہے۔
- 👥 غیر عسکری تعلقات: سفیر کے بقول، آذربائیجان نہ صرف ایک غیرمعمولی اتحادی بلکہ اسرائیل کا اثاثہ ہے۔
