ایک ایسے وقت میں کہ جب ریاض اور صنعا کے درمیان تناو اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے یمن کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ وہ صوبہ تعز کو مکمل طور پر آزاد کروانے کے قریب ہیں۔ صنعا حکومت میں تعز کے گورنر احمد المساوی نے عنقریب پورے صوبے کی مکمل آزادی پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ یمن کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ 6 فوجی آپریشنز کے نتیجے میں راس التنورہ آئل ریفائنری، بقیق میں آرامکو تیل تنصیبات، رابغ آئل ریفائنری، ریاض میں ملک خالد اور دمام میں ملک فہد ایئرپورٹس نیز نجران میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں کو "محاصرے کے بدلے محاصرہ” پالیسی کے تحت قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف سعودی جنگی طیاروں نے تعز کے علاقے مقبنہ میں دو رہائشی عمارات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 15 عام شہری شہید ہو گئے ہیں۔ شہداء میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ عدن کے گورنر علی العزیبی نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسلح افراد بھرتی کر کے یمن بھیج رہا ہے۔ انہوں نے جنوبی اور مشرقی یمن کے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ خطرناک فوجی مراکز سے دور رہیں۔ انصاراللہ یمن کے سیاسی رہنما حسین العزی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک یمن کے خلاف جاری ظالمانہ محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا اور اس پر جارحانہ حملے رک نہیں جاتے جنگ بند نہیں ہو سکتی۔ تعز کے گورنر احمد المساوی نے کہا ہے کہ صوبہ تعز کا بڑا حصہ آزاد کروا لیا گیا ہے جبکہ باقی حصہ بھی بہت جلد آزاد کروا لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صوبہ 12 سال تک قابض طاقتوں کے قبضے میں رہا جس کے نتیجے میں اس کے حصے بکھڑے کر دیے گئے تھے اور وہاں کے شہریوں کو بھی تقسیم کر دیا گیا تھا۔ احمد المساوی نے اس صوبے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے اسے یمن کی مسلح افواج اور مقامی افراد کی حمایت کا مرہون منت قرار دیا ہے۔ یاد رہے صوبہ تعز کے علاقے المخا، ذوباب، المعافر، المواسط، الشمایتین، جبل حبشی، الصلو، سامع، المسراخ، موزع اور الوازعیہ مکمل طور پر آزاد ہو چکے ہیں۔ ان علاقوں میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے بڑے فوجی اڈے بھی موجود تھے جن میں خالد بن ولید اور 35 ویں بٹالین شامل ہیں۔ خالد بن ولید ساحلی علاقے جبکہ 35 ویں بٹالین الحجریہ میں موجود تھے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز تعز شہر کے محض کچھ حصے میں موجود ہے اور صوبے کے باقی علاقوں سے ان کا مکمل صفایا کر دیا گیا ہے۔ احمد المساوی کا کہنا ہے کہ انہیں وہاں سے نکالنا بہت آسان ہے اور اس کے لیے حتی کسی بڑے فوجی آپریشن کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ المسیرہ اور سبا نیوز چینلز نے بھی آزاد ہونے والے علاقوں سے ویڈیو رپورٹس جاری کی ہیں۔ صوبہ تعز کی کل آبادی 40 لاکھ کے قریب ہے اور وہاں اب تعمیر نو کا کام شروع ہو چکا ہے۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے بھی اپنے بیانیے میں اعلان کیا ہے کہ یمنی فورسز نے سعودی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے 6 حملے انجام دیے ہیں۔ یہ حملے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے انجام پائے ہیں اور ان کا مقصد سعودی جارحیت میں شہید ہونے والے شہریوں کا انتقام لینا ہے۔ بلوم برگ نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں یمن کی جانب سے حملوں کے بعد سعودی عرب پر اقتصادی دباو بڑھ جانے پر زور دیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا اسٹاک ایکسچینج گذشتہ دو ماہ سے مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور اس وقت 2021ء سے اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2026ء میں سعودی عرب کا اسٹاک ایکسچینج دنیا کے کمزور ترین اسٹاک ایکسینچز میں شمار ہوا ہے جبکہ جنگ کے اثرات اب تیل کے علاوہ دیگر مصنوعات تک بھی پھیلتے جا رہے ہیں۔ علاقائی سطح پر سعودی عرب کی تجارتی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں اور اہم اقتصادی ایونٹس بھی موخر کر دیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں فضائی ٹرانسپورٹیشن میں بھی شدید خلل کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ روئٹرز کی جانب سے 26 اکتوبر 2026ء کے دن سیریم کمپنی کی جانب سے انجام پانے والی ایک تحقیق کے نتائج شائع ہوئے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق 8 سے 25 اکتوبر 2026ء کے درمیان ملک خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے پہلے سے طے شدہ کل 4736 پروازوں میں سے 4071 پروازیں کینسل کر دی گئی تھیں جو کل پروازوں کا 86 فیصد بنتا ہے۔ مزید برآں، ملک بھر میں کینسل ہونے والی پروازوں کی تعداد 7800 سے بھی زیادہ ہے۔
بلوم برگ نے آئی ایم ایف کے ایک سابق عہدیدار کے بقول اعلان کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو سعودی عرب کا سیکورٹی اعتبار اور اقتصادی استحکام ختم ہو جائے گا جس کے نتیجے میں بیرونی سرمایہ کاری کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اقتصادی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال یونہی جاری رہتی ہے تو سعودی عرب کی سیاحت، ٹرانسپورٹیشن اور بیرونی سرمایہ کاری کے شعبے بری طرح متاثر ہوں گے اور 2030 وژن بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں حتی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن بھی کارگر ثابت نہیں ہو گا اور اس نقصان کا ازالہ نہیں کر پائے گی۔ دوسری طرف فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب حتی اپنے اتحادیوں کی مدد کے باوجود مختصر مدت میں انصاراللہ یمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے اتحادی ممالک زیادہ سے زیادہ یمن پر فضائی حملے انجام دے سکتے ہیں جبکہ وہ زمینی کاروائی کرنے کی جرات نہیں کر سکتے۔ فوجی ماہرین کی نظر میں محض فضائی حملوں کے ذریعے کسی علاقے پر فوجی کنٹرول برقرار نہیں کیا جا سکتا اور جب تک زمینی کاروائی کے ذریعے فوجی پیشقدمی انجام نہ پائے ایسا ہونا ناممکن ہے۔ لہذا یوں محسوس ہوتا ہے کہ انصاراللہ یمن بہت جلد پورے یمن پر کنٹرول برقرار کر کے متحدہ یمن کا پرچم لہرا دیں گے۔




