علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے ’مکہ معاہدے‘ کے اراکین اور ایران کے درمیان ملاقات
سعودی عرب نے ۱ ارب ڈالر ایران کے حوالے کردیا
سعودی نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ’مکہ معاہدے‘ کے اراکین اور ایرانی حکام کے درمیان آج تہران میں ایک ملاقات ہوئی ۔ ان کے مطابق، یہ ملاقات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔


سعودی وزیر دفاع کی قیادت میں ایک سعودی وفد تہران پہنچا، جہاں انھوں نے ترکی کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ، ایران کے صدر اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے ہمراہ چار فریقی دفاعی اجلاس میں شرکت کی۔
اس اجلاس میں ایرانی صدرپزشکیان اور سیکرٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کی۔





علاقائی سلامتی اور استحکام پر ایران، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان چار فریقی اجلاس کے بعد جاری کردہ پریس بیان
بیان کا متن حسب ذیل ہے:
ان چار علاقائی ممالک کا پہلا اجلاس آج، 26 اکتوبر 2026 (4 آبان 1405) کو تہران میں منعقد ہوا۔
اس اجلاس کی میزبانی اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل محسن رضائی نے کی۔
شرکاء میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر، اور ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن کے سربراہ ابراہیم قالین شامل تھے۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ان چاروں علاقائی ممالک کے مابین تعاون کو مضبوط بنانے، بالخصوص خطے میں امن و سلامتی کے حوالے سے، اپنے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا :
سعودی وزیرِ دفاع کے دورہ تہران کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور بات چیت نیز سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔یہ دورہ قطر اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت میں ہو رہا ہے ۔ ہم خطے میں فوجی کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کو روکنے کے لیے مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ۔ہمیں امید ہے کہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچا جائے گا جو بحران کا خاتمہ کرے اور خطے اور دنیا میں امن و امان قائم کرے۔
اس اجلاس کا بنیادی مرکز غالباً وہ مذاکرات ہیں جن کا مقصد یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے ایران کے اعتماد کے حصول کیلئے ۱ ارب ڈالر کی نقد رقم اسی اجلاس کے دوران ایران کے حوالے کی ہے۔ یہ رقم سعودی وفد اپنے ہمراہ ایک سی ون تھرٹی طیارے میں لے کر آیا تھا جس نے تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ پر لینڈ کیا تھا۔ اس حوالے سے بعض خبررساں اداروں کا کہنا ہے کہ یہ رقم ایران کے ذریعے یمن کے حوالے کی جائے گی۔


یاد رہے اجلاس کے اختتام پر جنرل محسن رضایی نے ایران کے اسٹیٹ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اجلاس میں لبنان، غزہ سمیت علاقے میں جنگ بندی کے حوالے سے بات کی گئی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد باہدف مذاکرات اور عملی اقدامات ہیں لہذا آج کے اجلاس کے حوالے سے مختصر خبر دینے پر اکتفا کیا جائے گا اور عملی اقدامات انجام دینے کی صورت میں ان اجلاسوں کے مشترکہ بیانیہ نشر کئے جائیں گے۔
جنرل رضائی نے غاصب صیہونی فوجیوں کے لبنان اور غزہ سے عقب نشینی کے حوالے سے بات چیت کرنے کا اشارہ دیا ہے۔



