ہرمز سے باب المندب تک ایران کی جانب سے علاقائی حربوں کی توسیع کے بارے میں چیٹھم ہاؤس کی رائے
تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس نے یمن کی انصاراللہ کی جانب سے باب المندب پر تسلط اور اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں ایران کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان حالات کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے اور تہران کو عالمی تجارت اور توانائی کی دو اسٹریٹجک گزرگاہوں پر زیادہ مؤثر کردار کا حامل بنایا ہے۔
چیٹھم ہاؤس کے ڈائریکٹر اور آزادانہ سوچ پوڈکاسٹ کے میزبان برانن میڈوکس نے اس تھنک ٹینک کے تازہ ترین پروگرام کے آغاز میں کہا کہ یمن کی انصاراللہ نے بحیرہ احمر کے ساحلوں پر قبضے کے ساتھ آبنائے باب المندب پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اسی دوران ایران بھی آبنائے ہرمز میں آمدورفت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
انہوں نے چیٹھم ہاؤس کے محقق فارع المسلمی کے حوالے سے مزید کہا کہ ایران اب مشرق وسطی کے دو انتہائی اسٹریٹجک راستوں پر اثر رکھتا ہے اور دباؤ کے اس حربے کو "جوہری بم ” کے مترادف قرار دیا۔
المسلمی نے یہ بتاتے ہوئے کہ یمن کے حالات کو خطے کی تبدیلیوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، کہا کہ خلیج فارس کی تبدیلیاں، یمن تک پہنچ گئی ہیں۔
چیٹھم ہاؤس کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے پروگرام کی ڈائریکٹر صنم وکیل نے بھی اس نشست میں کہا کہ ایران کا انصاراللہ سے متعلق تبدیلیوں میں اہم کردار ہے لیکن اس تحریک کو تہران سے ریموٹ کنٹرول سے متاثر نہیں کیا جاتا اور یہ تحریک اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔



