◷

ہرمز سے باب المندب تک

4 اکتوبر 2026

ہرمز سے باب المندب تک ایران کی جانب سے علاقائی حربوں کی توسیع کے بارے میں چیٹھم ہاؤس کی رائے

تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس نے یمن کی انصاراللہ کی جانب سے باب المندب پر تسلط اور اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں ایران کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان حالات کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے اور تہران کو عالمی تجارت اور توانائی کی دو اسٹریٹجک گزرگاہوں پر زیادہ مؤثر کردار کا حامل بنایا ہے۔

چیٹھم ہاؤس کے ڈائریکٹر اور آزادانہ سوچ پوڈکاسٹ کے میزبان برانن میڈوکس نے اس تھنک ٹینک کے تازہ ترین پروگرام کے آغاز میں کہا کہ یمن کی انصاراللہ نے بحیرہ احمر کے ساحلوں پر قبضے کے ساتھ آبنائے باب المندب پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اسی دوران ایران بھی آبنائے ہرمز میں آمدورفت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

انہوں نے چیٹھم ہاؤس کے محقق فارع المسلمی کے حوالے سے مزید کہا کہ ایران اب مشرق وسطی کے دو انتہائی اسٹریٹجک راستوں پر اثر رکھتا ہے اور دباؤ کے اس حربے کو "جوہری بم ” کے مترادف قرار دیا۔

المسلمی نے یہ بتاتے ہوئے کہ یمن کے حالات کو خطے کی تبدیلیوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، کہا کہ خلیج فارس کی تبدیلیاں، یمن تک پہنچ گئی ہیں۔

 چیٹھم ہاؤس کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے پروگرام کی ڈائریکٹر صنم وکیل نے بھی اس نشست میں کہا کہ ایران کا انصاراللہ سے متعلق تبدیلیوں میں اہم کردار ہے لیکن اس تحریک کو تہران سے ریموٹ کنٹرول سے متاثر نہیں  کیا جاتا اور یہ تحریک اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے