پابندی اور محاصرہ اقتصادی دہشت گردی اور جارحانہ اقدام ہے: اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیرغلام حسین درزی نے پابندی اور محاصرے کو اقتصادی دہشت گردی اور جارحیت قرار دیا ہے
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر غلام حسین درزی نے منگل 27 اکتوبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کیوبا کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے،اس کے خلاف امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ پابندیاں اقتصادی دہشت گردی ہیں اور مسلح افواج کے ذریعے محاصرہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق جارحیت ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا کہ یہ چونتیسویں بار ہے کہ جنرل اسمبلی بے لگام خارجہ پالیسی، خودسرانہ کارروائیوں اورزورزبردستی کے ساتھ طاقت کے استعمال کی مخالفت کررہی ہے لیکن یہ اقدامات وہ حکومت انجام دے رہی ہے جو خود کو تمام بین الاقوامی قوانین سے بالاتر سمجھتی ہے اور اس نے پوری طاقت سے بین الاقوامی قوانین کی منظم خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
غلام حسین درزی نےکہا کہ یک طرفہ اور خودسرانہ پابندیاں، بین الاقوامی روابط، اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کو کمزور کرتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ پابندیاں اقوام کو اجتماعی سزا دینے کا وسیلہ ہیں جن سے بنیادی انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں، ترقی کرنے کا حق کمزور ہوتا ہے اور قیام امن، نیز منصفانہ بین الاقوامی نظام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، جس نےخود، امریکی جارحیتوں اور اس کی مسلط کردہ پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کیا ہے، دنیا کی آزاد،خومختار اور قومی اقتدار اعلیٰ کی مالک حکومتوں کے خلاف ہر قسم کی پابندی کی صراحت کے ساتھ مخالفت کا اعلان کرتاہے۔



