گلبرٹ ڈاکٹورو: ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا، مغربی ایشیا میں نیا سکیورٹی نظام تشکیل پائے گا
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار گلبرٹ ڈاکٹورو نے ابنا سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا، لیکن انہوں نے امریکی انٹیلی جنس کی سفارشات نظرانداز کرکے صیہونی حکومت کے خفیہ اداروں کے اندازوں اور مشوروں پر عمل کیا۔ ان کے مطابق، مغربی ایشیا میں امریکہ کے روایتی اثر و رسوخ میں کمی کے ساتھ ایران سمیت علاقائی طاقتوں کی شراکت سے نیا سکیورٹی نظام تشکیل پائے گا۔
مغربی ایشیا مسلط کردہ مغربی سکیورٹی نظام سے نکل کر ایک نئے اور مقامی سکیورٹی ڈھانچے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کی روایتی پالیسیاں میدانِ جنگ اور سیاسی محاذ پر مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ خطے کی طاقتیں اپنے اثر و رسوخ کی حدود نئے سرے سے متعین کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ ایران کی شرائط کی بنیاد پر مذاکرات کی میز پر واپسی سے لے کر تہران، انقرہ، ریاض اور اسلام آباد کے درمیان نئے اتحادوں کی تشکیل تک، یہ تمام پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اب نیا سکیورٹی نظام واشنگٹن سے نہیں چلایا جا رہا، بلکہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں اور علاقائی طاقتوں کے بدلتے توازن سے جنم لے رہا ہے۔
اسی دوران مغربی ایشیا میں طویل جنگوں کے پس پردہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی فیصلوں اور امریکہ کے خفیہ اداروں کے مشوروں کے درمیان گہرا اختلاف بھی سامنے آ رہا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے رہنماؤں کے ذاتی مفادات کے انتخابی سیاست سے جڑنے کے باعث اب یہ اہم سوال اٹھ رہا ہے کہ جنگ کا مستقبل کیا ہوگا اور میدانِ جنگ میں ناکامی کے نتیجے میں مغربی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کس حد تک کم ہوگا۔
ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام، امریکی فوجی طاقت کمزور
اسی تناظر میں مصنف، مؤرخ اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار گلبرٹ ڈاکٹورو نے ابنا سے گفتگو میں اس جنگ کے نتائج کا جائزہ لیا جسے ابتدا میں مختصر اور فیصلہ کن قرار دیا جا رہا تھا، لیکن وہ ایک طویل جنگ میں تبدیل ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ کے اعتراف کے مطابق، یہ جنگ نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے میں ناکام رہی بلکہ اس نے امریکی فوجی طاقت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ ان کے نزدیک یہ صورتِ حال عصرِ حاضر میں واشنگٹن کی سنگین غلط اندازے بازی کی مثال ہے۔
سی آئی اے نے ایران کے خلاف جنگ سے خبردار کیا، ٹرمپ نے صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس کی بات مانی
ڈاکٹورو نے زور دیا کہ اس غلط اندازے کی ذمہ داری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ ان کی انٹیلی جنس ٹیم پر۔ ان کے مطابق، امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ٹرمپ کو جنگ میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا، لیکن انہوں نے امریکی انٹیلی جنس کی سفارشات کے برخلاف صیہونی حکومت کے خفیہ اداروں کے اندازوں اور مشوروں پر عمل کیا۔
انہوں نے مزید کہا:
’’تاہم، ٹرمپ کے معاملے میں کوئی بھی بات ویسی قطعی نہیں ہوتی جیسی دکھائی دیتی ہے۔ بلاشبہ، اس جنگ کا حتمی نتیجہ امریکی فوجی اڈوں کی تباہی اور ممکنہ طور پر اس خطے سے امریکی مسلح افواج کا انخلا رہا ہے، جہاں اب ترکی اور پاکستان کی شراکت سے نئے سکیورٹی انتظامات تشکیل پا رہے ہیں۔
اس کے باوجود، مجھے بعید نہیں لگتا کہ شاید ابتدا ہی سے ٹرمپ یہی چاہتے تھے۔ بظاہر وہ نیٹو کو توڑنے کے لیے پُرعزم ہیں اور مشرقِ وسطیٰ سے امریکہ کا انخلا بھی عالمی نظام کی ازسرِنو تشکیل کے اسی وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد امریکہ کی بالادستی کا خاتمہ اور چین و روس کے ساتھ عالمی اثر و رسوخ کے دائرے تقسیم کرنے کی جانب بڑھنا ہے۔‘‘
جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ ایران کی شرائط ماننے پر مجبور ہوں گے
بین الاقوامی امور کے اس تجزیہ کار نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ جارحیت شروع ہوئے کئی ماہ گزرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے واضح امکانات نہ ہونے کے بار بار اعتراف کے باوجود، ڈونلڈ ٹرمپ بالآخر اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایران کی بنیادی شرائط قبول کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ان کے مطابق، ٹرمپ نے اس معاملے پر فیصلہ انتخابات کے انعقاد کے بعد تک مؤخر کر رکھا ہے۔
ڈاکٹورو نے چین کو قابو میں رکھنے سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی پر سیاسی مبصرین کے تبصروں کے بارے میں کہا کہ چین کو محدود کرنے کی باتیں محض زبانی دعوے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے پختہ یقین ہے کہ ٹرمپ دراصل ’یالٹا 2‘ جیسے انتظام کے خواہاں ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا، وہ دنیا کو امریکہ، روس اور چین کے اثر و رسوخ کے دائروں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
ایران کے خلاف جنگ کا مستقبل ٹرمپ اور نتن یاہو کے انتخابی مفادات سے جڑ گیا
ڈاکٹورو نے ان تجزیہ کاروں کے مؤقف کا حوالہ دیا جو ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کو نتن یاہو کے ذاتی اہداف کے سامنے غیر فعال سمجھتے ہیں اور تل ابیب کے لیے واشنگٹن کے غیر مشروط سکیورٹی عزم پر تنقید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسی کو صیہونی حکومت کے انتہا پسند دھڑوں کی داخلی سیاست سے شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے امریکہ اور صیہونی حکومت میں انتخابات کے باہمی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ اور نتن یاہو کے ذاتی مفادات کو ایران کے خلاف جنگ کے رخ پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں شمار کیا۔
ڈاکٹورو نے مزید کہا، ’’بظاہر ٹرمپ مکمل طور پر نتن یاہو کے اثر و رسوخ اور کنٹرول میں رہے ہیں، لیکن جیسا کہ میں پہلے وضاحت کر چکا ہوں، ٹرمپ کے معاملے میں تقریباً کوئی بھی بات ویسی قطعی اور حتمی نہیں ہوتی جیسی دکھائی دیتی ہے۔‘‘
ایران کی شراکت سے مغربی ایشیا میں نیا سکیورٹی نظام تشکیل پائے گا
ڈاکٹورو نے مغربی ایشیا میں مغرب کی روایتی بالادستی اور اثر و رسوخ میں کمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان براہِ راست معاہدوں پر مبنی نئے سکیورٹی نظام کے ممکنہ قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطہ بڑی تبدیلیوں کے دہانے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کی جانب سے ایران کے کردار پر توجہ دینا اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے مقصد سے ان ممالک کے وفود کی تہران میں موجودگی، علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی علامات میں شامل ہے۔
ڈاکٹورو نے اس حوالے سے کہا، ’’بلاشبہ، ہم ایک نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل کا مشاہدہ کریں گے جسے ایران سمیت خطے کی طاقتیں مل کر وجود میں لائیں گی۔‘‘



