فرانس کی سڑکوں پر ایران کے خلاف جنگ کے شعلے؛ مہنگائی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے معاشی اثرات یورپ تک پھیلنے کے دعووں کے درمیان فرانس میں مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور عوامی خدمات کی خراب صورت حال کے خلاف احتجاج وسیع ہو گیا ہے۔ یورپی کمیشن کے اندازوں کے مطابق، جنگ سے پیدا ہونے والی تجارتی اور توانائی کی منڈیوں کی بے چینی نے یورپی معیشت پر تقریباً 100 ارب یورو کا بوجھ ڈالا ہے۔
فرانس میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج، جن کا آغاز طلبہ کے مطالبات سے ہوا تھا، گزشتہ چند روز کے دوران مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور عوامی خدمات کی صورت حال پر عدم اطمینان کے خلاف مظاہروں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
ان احتجاجی مظاہروں میں بتدریج معاشرے کے مزید طبقات شامل ہوتے گئے، جن میں اسکولوں کے طلبہ، جامعات کے طلبہ، مزدور، پیشہ ورانہ انجمنیں اور قوتِ خرید میں کمی سے پریشان شہری شامل ہیں۔
فرانس کی سرحدوں سے باہر رونما ہونے والے ایک واقعے نے ملک پر معاشی دباؤ بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے فروری 2026 میں ایران کے خلاف شروع کی۔ اس جنگ کے اثرات توانائی کی منڈیوں میں خلل سے لے کر ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے تک یورپی معیشت میں منتقل ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے 20 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں فرانس اور یورپ کے متعدد دیگر ممالک میں احتجاج کے پھیلاؤ کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کی جنگ کو یورپ میں بڑھتے ہوئے اخراجات کے بحران کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔
یورپی کمیشن کے اس تخمینے کے مطابق، جس کا حوالہ رائٹرز نے دیا ہے، جنگ کے باعث تجارت اور توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والے خلل نے یورپی معیشت پر تقریباً 100 ارب یورو کے اخراجات کا بوجھ ڈالا ہے۔
اسی دوران، متعلقہ منڈیوں میں گیس کی قیمتوں میں تقریباً 140 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ یورپ میں ڈیزل کی قیمت دوگنی ہو گئی ہے۔
فرانس میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
فرانس میں اس معاشی دباؤ کے آثار خاص طور پر ایندھن کی منڈی میں نمایاں ہیں۔ یورپی کمیشن کے ہفتہ وار تیل کے اعداد و شمار کے مطابق، فرانس میں ڈیزل کی فی لیٹر اوسط قیمت 23 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے، یعنی جنگ شروع ہونے سے پہلے، تقریباً 1.65 یورو تھی، جو 12 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں بڑھ کر تقریباً 2.33 یورو ہو گئی۔ یہ تقریباً 41 فیصد اضافہ ہے۔
اسی عرصے میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت بھی تقریباً 1.71 یورو سے بڑھ کر 2.21 یورو ہو گئی، جو تقریباً 29 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
اس طرح فرانسیسی شہریوں کو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں فی لیٹر ڈیزل کے لیے تقریباً 68 سینٹ اور پٹرول کے لیے تقریباً 50 سینٹ زیادہ ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
گاڑیوں پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے لیے یہ محض کسی ایک شے کی قیمت میں اضافہ نہیں ہے۔ کام پر آنے جانے، سامان کی ترسیل، زرعی سرگرمیوں اور نقل و حمل کی خدمات کے اخراجات بھی ایندھن کی قیمتوں سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔
ایندھن مہنگا ہونے سے بتدریج اشیا اور خدمات کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں نقل و حمل مجموعی لاگت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس طرح پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ان خاندانوں کی قوتِ خرید کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو براہِ راست ایندھن نہیں خریدتے۔
فرانس میں افراطِ زر کی شرح میں اضافہ
یہ رجحان فرانس کے سرکاری اعداد و شمار میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ فرانس کے قومی ادارۂ شماریات و اقتصادی مطالعات کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ شروع ہونے سے پہلے سالانہ افراطِ زر کی شرح 0.9 فیصد تھی، جو بڑھ کر تقریباً تین گنا ہو گئی اور ستمبر میں 3.1 فیصد تک پہنچ گئی۔
اگر یورپی یونین کے ہم آہنگ صارف قیمت اشاریے کو استعمال کیا جائے، جو یورپی ممالک کے درمیان موازنے کے لیے بنایا گیا ہے، تو فرانس میں افراطِ زر کی شرح فروری میں 1.1 فیصد سے بڑھ کر ستمبر میں 3.4 فیصد ہو گئی۔ یہ شرح جنوری 2024 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
تاہم، ان اعداد و شمار کی درست تشریح کے لیے عمومی مہنگائی اور اس میں جنگ کے کردار کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ فرانس میں مہنگائی کے پورے اضافے کو جنگ سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، لیکن قیمتوں میں تبدیلی اور ملک کے شماریاتی اداروں کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ افراطِ زر میں تیزی لانے میں توانائی نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
فرانس کے قومی ادارۂ شماریات و اقتصادی مطالعات کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر میں توانائی کی قیمتیں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 21.3 فیصد بڑھیں۔ اس کے مقابلے میں جولائی میں یہ اضافہ 12.6 فیصد اور اگست میں 16.7 فیصد تھا۔
اسی عرصے میں تیل سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 36.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گیس کی قیمتیں 19 فیصد اور بجلی کی قیمتیں 1.4 فیصد بڑھیں۔
فرانسیسی شماریاتی ادارے نے بھی توانائی کی قیمتوں کو اہم وجہ قرار دیا
فرانس کے قومی ادارۂ شماریات و اقتصادی مطالعات کی ستمبر کی معاشی رپورٹ میں ان تبدیلیوں کے درمیان تعلق مزید واضح کیا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق، 2025 کے اواخر اور 2026 کے آغاز میں فرانس میں افراطِ زر کی شرح ایک فیصد سے بھی نیچے آ گئی تھی، لیکن مارچ سے اس میں تیزی آنا شروع ہوئی۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی شروع ہونے کے بعد تیل اور گیس سمیت ہائیڈروکاربن ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔
ادارے نے یہ پیش گوئی بھی کی ہے کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات بتدریج مختلف مصنوعات کی فروختی قیمتوں میں منتقل ہوں گے۔ اس میں غذائی اشیا، زرعی مصنوعات، صنعتی سامان اور فضائی نقل و حمل شامل ہیں۔ اس عمل کے باعث آئندہ مہینوں میں بھی مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
میکرون کا بیان؛ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ جنگ قرار
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کا 18 اکتوبر کا بیان بھی اس تعلق کی تصدیق کرتا ہے۔ اخبار لوموند کے مطابق، خلیجی ممالک کے دورے کے دوران توانائی کی فراہمی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میکرون نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو قرار دیا۔
یورپ کے دیگر ممالک میں بھی احتجاج
یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے خلاف احتجاج پھیلنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس کو کسی الگ تھلگ صورت حال کا سامنا نہیں ہے۔
رائٹرز نے 20 اکتوبر کی اپنی رپورٹ میں اٹلی، پرتگال، اسپین، بیلجیم اور البانیہ میں بھی ایندھن کی قیمتوں اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف عدم اطمینان اور احتجاجی مظاہروں کی اطلاع دی ہے۔
جنوبی اٹلی میں کسانوں نے زرعی مشینری چلانے کے لیے درکار ایندھن کے بھاری اخراجات کے خلاف احتجاج کیا ہے۔



