◷

امریکی عالمی اثر و رسوخ اورایران جنگ

12 اکتوبر 2026

ایران کے ساتھ جنگ امریکی عالمی اثر و رسوخ کے زوال میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے: مہدی حسن

برطانوی نژاد امریکی صحافی اور زیٹیو (Zeteo) کے بانی مہدی حسن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ دنیا بھر میں امریکی اثر و رسوخ کے زوال کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اس تنازع نے فوجی طاقت کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے اور عالمی نظام میں وسیع تر تبدیلی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔

ٹورنٹو کے علاقے میں منعقد ہونے والے یو ایم اے اے (UMAA) کے 24ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حسن نے اس تنازع کو امریکی خارجہ پالیسی، غزہ اور لبنان میں اسرائیل کے طرزِ عمل اور مشرقِ وسطیٰ میں بار بار کی جانے والی فوجی مداخلتوں کے بڑھتے ہوئے نتائج پر وسیع تر تنقید کے تناظر میں پیش کیا۔

یو ایم اے اے کنونشن 9 سے 11 اکتوبر تک ہلٹن ٹورنٹو/مارکھم سوئٹس میں منعقد ہو رہا ہے، جس کا موضوع ہے: **’’اگلا باب: شناخت سے اثر انگیزی تک‘‘**۔

ایوارڈ یافتہ صحافی اور آزاد میڈیا ادارے زیٹیو کے بانی مہدی حسن نے کہا کہ ممکن ہے مستقبل کے مؤرخین ایران کے ساتھ جنگ کو اس لمحے کے طور پر یاد کریں جب دنیا نے ’’پاکس امریکانا (Pax Americana) میں دراڑیں‘‘ دیکھنا شروع کیں۔ پاکس امریکانا سے مراد عالمی نظام میں امریکہ کی بالادستی اور اس کے زیرِ اثر قائم ہونے والا نسبتاً مستحکم عالمی ڈھانچہ ہے۔

حسن نے بین الاقوامی اور امریکی پالیسی ساز اداروں کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے خلیجِ فارس میں امریکی فوجی موجودگی اور اثر و رسوخ کے دیرپا ہونے کے حوالے سے اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

حسن نے کہا، ’’امریکہ کو فوجی برتری حاصل ہے، لیکن فوجی برتری کا مطلب سیاسی کنٹرول ہونا نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے اس تنازع کو اس چیز کی مثال قرار دیا جسے وہ ’’سامراجی حد سے تجاوز‘‘ کہتے ہیں۔

انہوں نے اس جنگ کے واشنگٹن کے علاقائی شراکت داروں، بالخصوص خلیجی ریاستوں، کے لیے تزویراتی نتائج پر بھی سوال اٹھایا۔

حسن کے مطابق، وہ ممالک جو روایتی طور پر اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے رہے ہیں، اب واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات پر ازسرِنو غور کر سکتے ہیں اور چین اور روس کے ساتھ قریبی اقتصادی اور تزویراتی روابط استوار کرنے کے امکانات تلاش کر سکتے ہیں۔

 اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی پر تنقید

مہدی حسن کی تقریر کا ایک اہم حصہ واشنگٹن اور اسرائیل کے تعلقات پر مرکوز تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کے مطالبات کی مزاحمت کرتی رہی تھیں۔ تاہم، حسن نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ بالآخر انہوں نے ایسے راستے کو قبول کر لیا جس کی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو برسوں سے خواہش رکھتے تھے۔

حسن نے کہا کہ امریکہ کو پہلے ہی خبردار کیا جا چکا تھا کہ ایران پر حملے کے نتیجے میں امریکی فوجی تنصیبات اور خطے میں اس کے اتحادیوں کو جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے اس خیال کو مسترد کیا کہ ان نتائج کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی تھی۔ ان کے مطابق، ایران بارہا خبردار کر چکا تھا کہ حملے کی صورت میں وہ کس طرح جواب دے گا۔

صحافی نے ٹرمپ انتظامیہ کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق وسیع تر حکمتِ عملی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ واشنگٹن نے خطے کی تاریخی، سیاسی اور فوجی پیچیدگیوں کو کم تر سمجھا۔

 غزہ اور جنگ کی انسانی قیمت

مہدی حسن نے اپنی تقریر میں غزہ کی جنگ پر خاص توجہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے شہریوں کی تکالیف کو ظاہر کرنے والی تصاویر اور خبروں نے عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل نے تنازع کے دوران اپنے بعض فوجی مقاصد حاصل کیے، لیکن اس نے نوجوان نسل کی حمایت کھو دی ہے۔ اس نسل نے انٹرنیٹ پر بچوں کی ہلاکتوں، خاندانوں کی جبری بے دخلی اور اسپتالوں کو پہنچنے والے نقصان کی تصاویر دیکھی ہیں۔

حسن نے خبردار کیا کہ یہ فرض نہیں کر لینا چاہیے کہ اسرائیل کی سیاسی قیادت میں تبدیلی لازماً اس کی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لے آئے گی۔ ان کے مطابق، غزہ کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کے طرزِ عمل کی مخالفت صرف وزیراعظم نیتن یاہو تک محدود نہیں ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی سیاسی اور ذرائع ابلاغ کی ان کوششوں پر بھی تنقید کی جن کے ذریعے صورتِ حال کو جنگ بندی کے بعد حل شدہ مسئلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ تشدد اور شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

لبنان اور شہری آبادی کی بے دخلی

شیعہ مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حسن نے جنوبی لبنان کی صورتِ حال کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے لبنانی شہریوں کی بے دخلی اور جنوبی لبنان کے دیہات کی تباہی سے متعلق رپورٹس اور الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو لبنانی شیعہ برادریوں کے خلاف ہونے والی مبینہ زیادتیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

حسن نے سوال اٹھایا کہ کیا مذہبی شناخت کی بنیاد پر شہری آبادیوں کو بے دخل کرنا یا ان کی بستیوں کو تباہ کرنا کسی بھی صورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق اور احتساب کے یکساں اصول ہر صورت میں لاگو ہونے چاہییں، خواہ ذمہ دار افراد کی شناخت کچھ بھی ہو یا متاثرین کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔

 مہدی حسن کا فرقہ وارانہ وابستگی سے بالاتر ہو کر احتساب کا مطالبہ

مہدی حسن کی تقریر کا ایک بنیادی نکتہ یہ تھا کہ حکومتوں پر تنقید کا معیار مذہبی یا سیاسی وابستگی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ایران پر فوجی حملے کے سخت مخالف ہیں اور اسے غیر قانونی سمجھتے ہیں، لیکن اس مخالفت کا مطلب یہ نہیں کہ ضرورت پڑنے پر ایرانی حکومت پر تنقید سے گریز کیا جائے۔

حسن نے کہا، ’’جہاں تک مجھے معلوم ہے، میں شیعہ ہوں اور صرف 14 ہستیاں معصوم ہیں۔‘‘ اس بیان کے ذریعے انہوں نے واضح کیا کہ کسی حکومت کو محض اس وجہ سے تنقید سے بالاتر نہیں سمجھنا چاہیے کہ کسی مذہبی برادری کے افراد اس سے وابستگی رکھتے ہیں۔

انہوں نے اسی اصول کو شہریوں کی جانوں کے تحفظ پر بھی لاگو کیا اور کہا کہ انسانی جانوں کی اہمیت فرقہ وارانہ حدود سے ماورا ہونی چاہیے۔

حسن نے کہا، ’’میناب میں ایک شیعہ بچے کی موت اہمیت رکھتی ہے۔ غزہ میں ایک سنی بچے کی موت بھی اہمیت رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کسی یہودی بچے، لبنانی بچے یا امریکی فوجی کی موت کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے۔

حسن کے نزدیک بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی شہری کی جان کی قدر اس کی قومیت، مذہب یا سیاسی وابستگی کے مطابق کم یا زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

’’جنگ ہمیشہ ایک انتخاب ہوتی ہے‘‘

اپنی تقریر کے آخری حصے میں مہدی حسن نے اس تصور کو مسترد کیا کہ جنگوں اور ان کے انسانی المیوں کو محض ناگزیر حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔

انہوں نے حاضرین سے کہا، ’’ہم کسی بھی صورت میں خود کو ان لوگوں کا عکس بننے کی اجازت نہیں دے سکتے جن پر ہم تنقید کرتے ہیں۔‘‘

ان کے مطابق، امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد اس کے برعکس ’’انسانیت، مساوات اور انصاف‘‘ پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے تسلط قائم کرنے، اجتماعی سزا دینے اور شہریوں کی ہلاکتوں کو معمول سمجھ لینے کی مخالفت کی۔

حسن نے کہا، ’’جنگ ناگزیر نہیں تھی، غزہ ناگزیر نہیں تھا، لبنان ناگزیر نہیں تھا۔ جنگ ہمیشہ ایک انتخاب ہوتی ہے۔ نسل کشی یقیناً ایک انتخاب ہے۔ احتساب سے استثنا بھی ایک انتخاب ہے۔‘‘

انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس مطالبے پر کیا کہ عام شہریوں کو حکومتوں اور سیاسی رہنماؤں کے فیصلوں کو چیلنج کرنا چاہیے اور شہریوں کی جانیں ضائع ہونے کے بعد ہی نہیں بلکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی ان سے جواب دہی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

حسن نے کہا، ’’میناب کے بچے محض یہ سننے سے زیادہ کے مستحق ہیں کہ ’جنگ ایک ظالمانہ چیز ہے‘۔ غزہ کے بچے ایک جعلی جنگ بندی سے بڑھ کر کچھ حاصل کرنے کے حق دار ہیں۔‘‘

انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جنوبی لبنان سے بے دخل کیے گئے شہریوں کو اپنے گھروں میں واپس جانے کا موقع دیا جائے۔

مہدی حسن نے اپنی تقریر کا اختتام جنگ اور احتساب سے استثنا کے خلاف آواز بلند کرنے کی اپیل پر کیا:

’’ہم جنگ کو مسترد کرتے ہیں، ہم نسل کشی کو مسترد کرتے ہیں، ہم احتساب سے استثنا کو مسترد کرتے ہیں، اور ہم کہتے ہیں کہ ہمارے نام پر یہ سب کچھ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے