امریکا اور صیہونی حکومت کے حملوں میں ایران کے شہر لامرد میں ممنوعہ ہتھیاروں کا تجربہ کیا گیا ہے
نیوز ایجنسی ارنا کے سی ای او حسین جابری انصاری نے منگل کو شہر لامرد کے ان علاقوں کا معائنہ کیا جو امریکا اور صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں میں ممنوعہ ہتھیاروں کا نشانہ بنے تھے۔
انھوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ شہر ان ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنایا گیا جنہیں بین الاقوامی طور پر ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔
ارنا چیف حسین جابری انصاری نے کہا کہ یہ امریکا اور صیہونی حکومت کی مجرمانہ پالیسیوں کی عینی تصویر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے لئے ضروری ہے کہ ان واقعات کو دستاویزی ثبوت کے ساتھ بیان کریں ۔
حسین جابری انصاری نے کہا کہ انہیں آج شہر مقاومت لامرد کے عوام سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی ہے جو امریکا اور صیہونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ میں وحشیانہ طور پر ممنوعہ بموں کا نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکی اور صیہونی جارحیت میں اس ایک شہرکے بچوں، بوڑھوں اور نہتے شہریوں پر ایک ساتھ 7 لاکھ 20 ہزار بموں کے ٹکڑوں کی بارش کی گئی ۔
ارنا کے سی ای او نے ایک پوری قوم کی موت کے گھاٹ اتارنے کے بارے میں ٹرمپ کی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لامرد میں جو کچھ ہوا ہے، وہ ٹرمپ کے اس بیان سے تعلق رکھتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ وحشیانہ حملہ، امریکی صدر کے اس بیان کی عملی ترجمانی کرتا ہے۔
حسین جابری انصاری نے مزید کہا کہ یہ جنوبی ایران، صوبہ فارس کے جنوب میں واقع شہر لامرد ہے ۔ یہ تاریخی شہر ہے جس کو امریکا اور صیہونی حکومت نے ممنوعہ بموں کی تجربہ گاہ بنایا اور عوام پر وہ بم برسائے جنہیں بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جرائم پیشہ دشمن نے اس شہر کے کھیل کود کے مراکز اور رہائشی علاقوں پر بمباری اور عوام کے قتل عام کا ارتکاب کیا۔



