فرانسیسی سفیر ایرانی وزارت خارجہ میں طلب، طلبہ کے احتجاج کی سرکوبی پر ایران کا اعتراض
اسلامی جمہوریۂ ایران کی وزارت خارجہ نے تہران میں متعین فرانس کے سفیر کو طلب کر کے انھیں اس ملک میں طلبہ کے احتجاج کی سرکوبی پر اپنے اعتراض سے مطلع کیا ہے۔
فرانسیسی حکومت کی جانب سے طلبہ کے احتجاج کے خلاف پرتشدد کارروائی اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کے بعد پیر کی شام تہران میں فرانس کے سفیر پیئر کوشار کو وزارت خارجہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ کی جانب سے وزارت خارجہ طلب کیا گیا۔
وزارت خارجہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ حمید احمدی نے اس موقع پر فرانسیسی سفیر کو متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں اور دستاویزات کے تحت فرانسیسی حکومت کی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی اور بنیادی انسانی حقوق اور آزادی، بالخصوص پرامن اجتماع کے حق کے احترام کا مطالبہ کیا۔
حمید احمدی نے پرامن اجتماعات کے خلاف فرانسیسی سیکورٹی فورسز کی پرتشدد کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی اور کئی معذور ہوگئے ہیں، جن میں بعض بینائی سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ 5000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ پرامن اجتماعات میں مظاہرین کے خلاف اس سطح کے تشدد کا استعمال کسی بھی صورت قابل جواز نہیں ہے۔
حمید احمدی نے کلاسوں میں فرانسیسی سیکورٹی فورسز اور مسلح پولیس کے داخل ہونے اور طلبہ اور اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹوں اور تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد میکنزم بنانے اور اس ملک کی پولیس کی جانب سے طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور اسکولوں کی حدود کی خلاف ورزی سے متعلق متعدد رپورٹوں کی تحقیق کا مطالبہ کیا۔
وزارت خارجہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ نے فرانس میں مظاہرین کے جائز مطالبات، یعنی تعلیم کے بنیادی حق اور ایک منصفانہ اور بلاامتیاز تعلیمی نظام سے مستفید ہونے کے حق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس ملک کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فرانسیسی شہریوں، بالخصوص نئی نسل کے جائز اور قانونی حقوق کا احترام کرے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔



