◷

فلائی دبئی واقعے میں اسرائیل کا کردار

3 اکتوبر 2026

فلائی دبئی واقعے میں اسرائیل کا کردار؛ آن لائن ’فالس فلیگ‘ بیانیے کا پھیلاؤ

’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، فلائی دبئی کے واقعے کے بعد آن لائن ’فالس فلیگ‘ بیانیہ گردش کرنے لگا۔
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز سے متعلق اس واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ایسے بیانیے سامنے آئے جن میں اسرائیل کو اس واقعے کا ذمہ دار یا منصوبہ ساز قرار دیا گیا اور اسے ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ (یعنی کسی اور پر الزام ڈالنے کی غرض سے خود کی جانے والی کاروائی) قرار دیا گیا۔ یہ بیانیے واقعے کی خبر سامنے آنے کے چند منٹ بعد ہی آن لائن نمودار ہوئے اور پھر تیزی سے پھیل گئے۔

’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، طیارے کی جانب سے مدد کے لیے ابتدائی سگنل (distress signal) بھیجے جانے کے صرف 67 منٹ بعد ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (X) پر ایک ایسی پوسٹ سامنے آئی جس میں اس واقعے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ 12 گھنٹے کے دوران ایسی 2,963 پوسٹس شائع ہوئیں جن میں اس واقعے کو اسرائیل، موساد، بنجمن نیتن یاہو یا صیہونی دھڑوں سے منسوب کیا گیا تھا۔

مزید برآں، اس عرصے کے دوران "فالس فلیگ” (false flag) کی اصطلاح استعمال کرنے والی 4,136 پوسٹس میں سے تقریباً 72 فیصد میں اس واقعے میں اسرائیل یا اس کے وابستہ کارندوں کے کردار کا ذکر موجود تھا؛ یہ تناسب تجزیے کے آخری دو گھنٹوں کے دوران بڑھ کر 81 فیصد اور 82 فیصد تک پہنچ گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیانیہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلا۔

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کے کاک پٹ میں ایک جھگڑا پیش آیا؛ کو پائلٹ کی جانب سے پائلٹ پر حملے کے بعد طیارے کی بلندی میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ بالآخر، مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کر لیا اور طیارے نے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی۔

کو پائلٹ کے محرکات اور واقعے کی درست تفصیلات کے بارے میں جاری تحقیقات کے باوجود، "فالس فلیگ” کے بیانیے کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے آن لائن بحث کا ایک بڑا حصہ خود تحقیقات پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اس واقعے کی منصوبہ بندی یا عمل درآمد میں اسرائیلی ملوث ہونے کے الزامات پر مرکوز ہو گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے