◷

کیا مصنوعی ذہانت واقعی بنی نوع انسان کا خاتمہ کر دے گی؟

29 ستمبر 2026

کیا مصنوعی ذہانت واقعی بنی نوع انسان کا خاتمہ کر دے گی؟ ہنگامہ ہائے ہو کے پیچھے پوشیدہ سائنسی حقائق/ اکرام ضیاء

معروف سائنسی جریدہ ‘نیچر’ اس امر کا جائزہ لے رہا ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے حرفِ آخر ثابت ہو سکتی ہے، اور آخر کیوں خود مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیاں ہی اس کی رفتار کو دھیما کرنے کی دہائی دے رہی ہیں۔

مصنوعی ذہانت (AI) کے ہاتھوں نوعِ انسانی کی ممکنہ تباہی کے خدشات اس وقت شدت اختیار کر چکے ہیں، خصوصاً دنیا کی صفِ اول کی کمپنیوں کے محققین اور سربراہان کی حالیہ تنبیہات نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے۔ قانون ساز اس پر کیا لائحہ عمل اختیار کریں گے، اس حوالے سے قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ ممتاز سائنسی جریدے ‘نیچر’ نے اس بات کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے کہ یہ خوف آخر ہے کیا، اس کا اظہار کون کر رہا ہے اور مستقبل میں کیا رخ اختیار کر سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت سے جڑے ان تازہ خدشات کا آغاز کیسے ہوا؟
اس حالیہ سنسنی کا آغاز 8 ستمبر کو ہوا، جب معروف محقق جیکب کوکسن نے وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ سان فرانسسکو، کیلیفورنیا میں قائم AI کے ممتاز ادارے ‘اینتھروپک’ سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں شدید خدشہ ہے کہ کمپنی کے تیار کردہ نظام قابو سے باہر ہو کر انسانیت کی بقا کو مٹانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ بعد ازاں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنی زندگی کی پہلی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کوکسن نے لکھا: "مصنوعی ذہانت کی تخلیق میں مصروف لوگ دل سے یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اس دہائی کے اختتام تک ہم سب کا خاتمہ کر سکتی ہے۔”

اس کے چند ہی گھنٹوں بعد، اینتھروپک میں ‘الائنمنٹ سائنس’ (ٹیکنالوجی کو انسانی اقدار کے تابع رکھنے کے مشن) کے سربراہ ایون ہیوبنگر نے اس پیغام کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کوکسن کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے اپنا اندازہ پیش کیا کہ اگلی دہائی میں انسانوں کے ناپید ہونے کا خطرہ "10 فیصد سے بھی زیادہ” ہے۔ کوکسن کی اس تحریر کو محض 24 گھنٹوں میں 10 کروڑ سے زائد بار دیکھا گیا۔ اس کے فوراً بعد، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈائی نے ایک تفصیلی مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے AI کی ترقی کو مستقل روکنے کے بجائے اس کی رفتار کو کچھ دھیما کرنے پر زور دیا۔ اس تجویز کی تائید سان فرانسسکو کی کمپنی ‘اوپن اے آئی’ کے سربراہ سیم آلٹمین اور پالو آلٹو، کیلیفورنیا میں قائم ‘ایکس اے آئی’ (xAI) کے بانی ایلون مسک جیسے حریف رہنماؤں نے بھی کی ہے۔

مصنوعی ذہانت ہمیں کیسے نیست و نابود کر سکتی ہے؟
کوکسن، ہیوبنگر اور اموڈائی نے اس بات کی کوئی حتمی یا تفصیلی وضاحت تو نہیں دی کہ AI انسانیت کا صفایا کس طرح کرے گا، تاہم اس کے ممکنہ مناظر کو سمجھنے کی کچھ کوششیں ضرور کی گئی ہیں۔ ایک غیر منافع بخش ادارے ‘اے آئی فیوچرز پروجیکٹ’ نے ‘AI 2027’ کے نام سے ایک فرضی خاکہ پیش کیا ہے، جس کے مطابق ایک خود مختار AI انسانوں کے خاتمے کے لیے حیاتیاتی ہتھیار کا استعمال کر سکتا ہے، تاکہ اسے سولر پینلز اور روبوٹ فیکٹریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ میسر آ سکے۔

اس نوعیت کے خدشات رکھنے والے محققین کا ماننا ہے کہ اگر دو بنیادی مفروضوں کو درست تسلیم کر لیا جائے، تو انسانی بقا کا خطرہ ناگزیر نہ سہی مگر ممکن ضرور ہو جاتا ہے: پہلا یہ کہ یہ نظام وقت کے ساتھ ساتھ انسانی ذہانت کو مکمل طور پر مات دے دیں گے، اور دوسرا یہ کہ ان مصنوعی نظاموں کے مقاصد اور اہداف انسانی ترجیحات سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے۔ اس کی ایک مشہور مثال یہ دی جاتی ہے کہ اگر ایک ‘سپر انٹیلی جنس’ (فوق العادہ ذہانت) کو صرف زیادہ سے زیادہ پیپر کلپ بنانے کا ہدف دے دیا جائے، تو وہ اپنے اس اکیلے مقصد کو حاصل کرنے کی دھن میں پوری زمین کو انسانوں کے رہنے کے ناقابل بنا سکتی ہے۔

اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے وابستہ وجودی خطرات کا شکار بیشتر محققین کا یہ ماننا ہے کہ "جب ہم اس مقام تک پہنچ جائیں گے تو باقی سب محض جزئیات رہ جائیں گی”، یہ کہنا ہے کیلیفورنیا کے شہر سانتا مونیکا میں قائم ‘رینڈ کارپوریشن’ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی پالیسی پر تحقیق کرنے والے مائیکل ورمیئر کا۔ ورمیئر کے مطابق اس قسم کی پیش گوئیاں عام طور پر "ایسے غیر مصدقہ دعووں پر مبنی ہوتی ہیں جن کے نتیجے میں ہونے والی گفتگو سائنسی یا تجرباتی ہونے کے بجائے محض عقیدت اور اندھے یقین کی شکل اختیار کر لیتی ہے”۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں ان مباحثوں کی بنیاد پر کسی بھی لائحہ عمل کو طے کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

 چنانچہ سنہ 2025 میں ورمیئر اور ان کے ساتھیوں نے مستقبل کی خیالی باتوں کے بجائے تین موجودہ ٹیکنالوجیز پر مبنی عملی منظرناموں کا جائزہ لیا: جوہری ہتھیار، بائیو ٹیکنالوجی (حیاتیاتی ٹیکنالوجی)، اور کرہ ہوائی میں دانستہ تبدیلیاں۔ ان کی تحقیق کے مطابق جوہری ہتھیاروں کے ذریعے انسانیت کا مکمل خاتمہ تو ممکن نہیں، البتہ دیگر دو منظرناموں کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی پایا کہ ان تباہ کن منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے اے آئی ماڈلز کے پاس مادی دنیا سے باہمی رابطے کی غیر معمولی صلاحیت ہونا ضروری ہے، اور اے آئی کی یہ مہلک کوششیں یقیناً وقت طلب ہوں گی جنہیں انسان بروقت بھانپ کر اپنی نسل کی بقا کی خاطر روک سکتے ہیں۔

تو آخر ہمیں اس حوالے سے کس حد تک فکرمند ہونا چاہیے؟

 نیویارک شہر کے ‘اے آئی ناؤ انسٹی ٹیوٹ’ میں چیف اے آئی سائنٹسٹ’ ہیدی  خلاف’ کہتی ہیں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اے آئی ماڈلز زیادہ تر امکانی نظاموں پر کام کرتے ہیں جو انٹرنیٹ سے حاصل کردہ ڈیٹا کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں انسانوں جیسی فہم و فراست نہیں ہوتی اور وہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے غیر متوقع اور نامعلوم راستے اختیار کر سکتے ہیں۔ آزمائشی مراحل کے دوران ان کے نقصانات سامنے آئے ہیں، جیسے کہ تجرباتی ماحول میں لوگوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش اور حقیقی دنیا کی کمپنیوں کو ہیک کرنا—اگرچہ ہیکنگ کا یہ واقعہ تب پیش آیا جب ان کے رویے کو جانچنے کے لیے حفاظتی حصار (گارڈ ریلز) ہٹا دیے گئے تھے اور ماڈلز کو ایک ایسا ہدف دیا گیا تھا جس نے انہیں غیر مجاز طریقے ڈھونڈنے پر اکسایا۔

 اب بہت سے محققین کو یہ تشویش لاحق ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے اپنے ماڈلز کی نگرانی اور ان کی حدود کا تعین کرنے کی ناقص کوششیں ایسے نقصانات کا باعث بنیں گی جو وجودی خطرے کے مقابلے میں کہیں زیادہ فوری اور یقینی ہیں۔ ان نقصانات میں جھوٹے پروپیگنڈے اور ذہنی انتشار سے لے کر تباہ کن واقعات تک شامل ہیں، جیسے کہ انسانوں کو دانستہ طور پر حیاتیاتی ہتھیار بنانے میں مدد فراہم کرنا یا کسی جنگ کو ہوا دینا۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے اوائل میں اے آئی کی تیار کردہ ایک جھوٹی رپورٹ کی وجہ سے امریکی فوج چینی بحری جہاز پر کارروائی کرنے ہی والی تھی۔ ہیدی خلاف، جنہوں نے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے ریگولیٹری دستاویزات کی تیاری میں اے آئی کے استعمال کا مطالعہ کیا ہے، کہتی ہیں کہ "زندگی اور موت کے حساس ماحول میں اے آئی کی کمزور ساکھ اور غلطیوں کی بلند شرح” ان کے لیے انسانیت کے خاتمے کے ان خطرات سے کہیں زیادہ تشویشناک ہے، جنہیں وہ محض "خوف پھیلانے کی مہم” قرار دیتی ہیں۔

"حالیہ خدشات اچانک اس قدر جنگل کی آگ کی طرح کیوں پھیل گئے؟

اگرچہ 2023 سے اموڈے اور ان کے ہم عصر مسلسل بقائے باہمی کے خطرات پر بیانات دے رہے ہیں، لیکن اس بار یہ بحث عام پبلک کے شعور کا حصہ بن چکی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے خلاف عوامی ردِعمل اور امریکی قانون سازوں بشمول سینیٹر برنی سینڈرز کی جانب سے امریکہ میں ‘مصنوعی سپر انٹیلیجنس’ پر پابندی کا بل متعارف کرانے کی کوششوں نے یقیناً اس سلگتی ہوئی آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔

 گزشتہ دو ماہ کے دوران سائبر سیکیورٹی کے کئی تشویشناک واقعات بھی رونما ہوئے، جس کے باعث اے آئی (AI) شعبے کے لگ بھگ 1,400 ملازمین نے ترقی کی رفتار کو دھیما کرنے کا مطالبہ کرنے والے ایک کھلے خط پر دستخط کیے۔

 اینتھروپک کے سی ای او، ڈاریو اموڈے نے امریکی سینیٹ کے سامنے گواہی دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کی ترقی کی رفتار کو سست کرنے پر زور دیا ہے۔ اموڈے اور ہیوبنگر کی اس معاملے میں شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کمپنیاں اے آئی کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرنے کا خیرمقدم کرتی ہیں۔ اپنے مضمون میں، اموڈے لکھتے ہیں کہ سائبر سیکیورٹی کے ان واقعات اور اے آئی کے ذریعے خود اپنا جانشین تیار کرنے کے امکان نے ان کے خوف کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس عمل کو ‘ریکرسیو سیلف امپروومنٹ’ (مسلسل خود کار اصلاح recursive self-improvement) کہا جاتا ہے، جس کی کوششیں پوری صنعت میں کی جا رہی ہیں اور ان کے بقول، یہ انسانوں کی ان ماڈلز کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے کی صلاحیت کو کم کر سکتا ہے۔ کوکسن نے بھی اپنے استعفیٰ کے ریمارکس میں ‘خود کو بہتر بنانے والے سسٹمز’ کا حوالہ دیا تھا۔ سخت قوانین اینتھروپک کو، جو کہ مبینہ طور پر اپنے آئی پی او (ابتدائی عوامی پیشکش) لانے کے قریب ہے، حریفوں سے پیچھے رہ جانے کی فکر کے بغیر ترقی کی رفتار دھیمی کرنے کا ایک جواز فراہم کریں گے۔

 کچھ ماہرین نے اس اقدام کی دیگر وجوہات بھی پیش کی ہیں۔ یو ایس پریذیڈنٹ کونسل آف ایڈوائزرز آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شریک چیئرمین ڈیوڈ سیکس نے ایکس (X) پر لکھا کہ اگر اینتھروپک اور دیگر کمپنیوں کے ماڈلز کسی ‘انتہائی تباہ کن سائبر حملے’ کا سبب بنتے ہیں، تو انہیں مصنوعات کی بھاری قانونی ذمہ داری (پروڈکٹ لائبیلٹی) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”

سان فرانسسکو میں قائم آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی کمپنی ‘Ndea’ کے شریک بانی، فرانسوا شولیٹ نے ‘X’ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ضوابط کو سخت کرنے کی یہ تجاویز محض چند بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں طاقت

مرکوز کرنے کی کسی تزویراتی کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ حقیقتی معنوں میں تحفظ کے پیشِ نظر پیش کی گئی ہیں۔

اب آگے کیا ہوگا؟

 اموڈئی نے اس میدان کی صفِ اول کی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ آزاد فریقین پر مشتمل مبصرین کی ایک ٹیم کو اپنے ملازمین جیسی مکمل رسائی فراہم کریں۔ امریکہ کی دیگر بڑی کلاؤڈ اور اے آئی کمپنیوں کے سربراہان نے بھی اس تجویز کی تائید کی ہے، سوائے کیلی فورنیا کے شہر سانتا کلارا سے تعلق رکھنے والی چپ ساز کمپنی ‘NVIDIA’ کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کے، جنہوں نے نئے قوانین کے نفاذ کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ ان آزاد مبصرین کا کام یہ جانچنا ہوگا کہ آیا کمپنیاں مناسب حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہیں یا نہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ان اداروں کے اندرونی نظام میں مزید شفافیت پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔

اموڈئی نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ امریکی حکومت ان اینٹی ٹرسٹ (اجارہ داری مخالف) قوانین کو عارضی طور پر معطل کر سکتی ہے جو حریف کمپنیوں کو باہمی گٹھ جوڑ سے روکتے ہیں، تاکہ یہ تمام ادارے مل کر ایسے معیارات وضع کر سکیں جو اس ٹیکنالوجی کی اندھا دھند ترقی کی رفتار کو تھوڑا دھیما کر سکیں۔ یہ قدم وائٹ ہاؤس کے ان موجودہ منصوبوں سے بھی آگے کی چیز ہوگا جن کے تحت کسی بھی اے آئی ماڈل کو مارکیٹ میں لانے سے 30 دن پہلے غیر واضح معیارات کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ اگرچہ امریکی قانون سازوں نے اے آئی کی نگرانی بڑھانے کے لیے کئی بل تجویز کیے ہیں، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترقی کی رفتار کو سست کرنے کے اس مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اموڈئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے اے آئی کے خلاف ایک "بیمار سازش” قرار دیا اور کہا کہ "اس صورتحال سے اگر کوئی خوش ہے، تو وہ صرف چین ہے”۔

چین میں پہلے ہی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے حوالے سے وسیع قوانین موجود ہیں، تاہم وہاں کا مقصد اس کی ترقی کو دانستہ طور پر سست کرنا ہرگز نہیں ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، چینی ترجمان نے 14 ستمبر کو اپنے بیان میں کہا کہ "خوف، تصادم اور بدنیتی پر مبنی مقابلے کے بیانیے عالمی سطح پر اے آئی کی گورننس کے عمل کو سبوتاژ کرنے کا باعث بنتے ہیں، اور یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہیں”۔

فی الوقت، عالمی سطح پر اے آئی کا کوئی متفقہ قانون موجود نہیں ہے۔ ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ سے 24 ستمبر کو ملاقات طے ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ اور چین کے مابین اے آئی کے تحفظ پر کسی معاہدے کا امکان بہت کم ہے۔ تاہم، جیسا کہ آلٹ مین پہلے کہہ چکے ہیں، اگر یہ دونوں ممالک کسی مشترکہ نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں، تو یہ جوڑی مل کر "نوبل امن انعام” کی حقدار بن سکتی ہے۔

نوٹ: اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے