اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ اس بات پر وسیع تر اتفاق ہونا چاہیے کہ کوئی بھی کمپنی یا ریاست مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ایسا نظام تیار کرنے کا حق نہیں رکھتی جو بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن سکتا ہو۔
مصنوعی ذہانت پر اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل کے شریک سربراہ یوشوا بینجیو نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فی الوقت اے آئی سے متعلق فیصلے چند ممالک کے چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں اور ٹیکنالوجی کی طاقت کے اس ارتکاز سے انسانیت کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
انہوں نے حالیہ عرصہ میں پیش آنے والے ایسے واقعات کا حوالہ بھی دیا جن میں معروف کمپنیوں کے تیار کردہ اے آئی ایجنٹس نے خطرناک اور ناقابل قبول طرز عمل اختیار کیا اور دی گئی ہدایات کی خلاف ورزی کی۔ ان میں بعض ایسے اقدامات بھی شامل تھے جنہیں انسان انجام دیتے تو وہ جرائم کے زمرے میں آتے۔
مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے بے پایاں فوائد اور اس سے لاحق سنگین خطرات کے بارے میں تین بڑی اے آئی کمپنیوں کے سربراہوں نے بھی کونسل کو بریفنگ دی جن میں اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹ مین، اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈی اور ہگنگ فیس کے سی ای او کلیمنٹ ڈیلانگ شامل تھے۔

اینتھروپک کے سی ای او ڈیریو اموڈی نے اے آئی سے متعلق خطرات کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جن میں اے آئی ماڈلز کا غلط استعمال اور ان کے اختیارات و صلاحیتوں پر انسانی کنٹرول کا ختم ہونا شامل ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اے آئی کا غلط استعمال کرتے ہوئے حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اموڈی نے دعویٰ کیا کہ ان کی کمپنی نے ایسے خطرات سے نمٹنے کے حوالے سے تحقیق اور عملی اقدامات، دونوں میدانوں میں بہترین ریکارڈ قائم کیا ہے۔ مشین کی اندرونی کارکردگی کو سمجھنے اور اے آئی کو انسانی مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کی سائنس جیسے شعبوں میں بنیادی تحقیق کی گئی ہے جبکہ شفافیت کے حوالے سے بھی غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ضروری ہوا تو ان کی کمپنی اے آئی کی ترقی کے حوالے اپنی پیش رفت کی رفتار کم کر دے گی تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی محفوظ ہو۔
اے آئی کے شعبے میں عالمی تعاون کے بارے میں اموڈی نے تین تجاویز پیش کیں:
- ایسے محدود اور مخصوص معاہدوں سے ابتدا کی جائے جن کی تمام ممالک حمایت کر سکیں۔
- ایسے جائزے اور تصدیقی نظام تشکیل دیے جائیں جو اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
- اے آئی ماڈلز کی جانچ کے لیے عالمی سطح پر یکساں معیارات قائم کیے جائیں۔



