انصاراللہ یمن کی بڑی کامیابیاں
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی
یمن میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں اور اس ملک کے مشرقی ساحلی علاقے میں انصاراللہ یمن کی برق آسا پیشقدمی نے خطے کی جنگی اور سیکورٹی مساواتوں کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کامیابیاں انصاراللہ یمن کے لیے محض فوجی فتوحات ہی نہیں بلکہ وہ آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر، افریقی ہارن اور حتی جہازرانی کے بین الاقوامی راستوں پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔ ان تیزی سے بدلتے حالات کی اہمیت اس وقت مزید اجاگر ہوتی ہے جب ہم اس حقیقت پر توجہ دیتے ہیں کہ انصاراللہ یمن گذشتہ کئی سالوں سے شدید محاصرے اور فوجی دباو کا شکار رہے ہیں جبکہ اس دوران وہ امریکہ، اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پٹھو پراکسی فروسز کے خلاف کئی محاذوں پر برسرپیکار بھی رہ چکے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انصاراللہ یمن کی جانب سے نئے علاقوں پر کنٹرول قائم کرنا اور نئی فتوحات حاصل کرنا خطے میں طاقت کے توازن پر کس طرح اثرانداز ہوں گے اور مستقبل قریب میں انصاراللہ یمن کے اہداف کیا ہیں؟
گذشتہ ہفتے پیر سے جمعرات تک یمن کے مشرقی ساحلی علاقوں میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں انہوں نے امریکی، یورپی اور عرب حکمرانوں کو انگشت بدہان کر ڈالا ہے۔ انصاراللہ یمن نے ایک انتہائی وسیع اور تیز رفتار فوجی آپریشن انجام دیا جس کے نتیجے میں 5400 مربع کلومیٹر کا علاقہ دشمن کے قبضے سے آزاد کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ علاقہ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہے جس کا کچھ حصہ کوہستانی جبکہ دوسرا ساحلی ہے۔ یاد رہے یہ رقبہ لبنان کے کل رقبے کا 50 فیصد حصہ بنتا ہے۔ انصاراللہ یمن کا یہ فوجی آپریشن دو دن تک جاری رہا اور اس دوران 4 قصبے اور آبنائے باب المندب کے قریب واقع 4 اہم جزیرے انصاراللہ یمن کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔ آج مغربی اور عرب ممالک جس بنیادی سوال سے روبرو ہیں وہ یہ ہے کہ انصاراللہ یمن نے 12 سال تک شدید ترین محاصرے اور 9 سال تک جنگ کا شکار رہنے نیز غزہ جنگ میں فلسطینیوں کی حمایت کرنے اور اس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کا شکار ہو جانے کے باوجود کس طرح اتنی مختصر مدت میں اتنے وسیع اور اسٹریٹجک علاقے اپنے کنٹرول میں لے لیے ہیں؟
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے وابستہ پٹھو عناصر بھی انصاراللہ یمن کی اس بڑی کامیابی پر شدید حیرت زدہ ہیں کیونکہ انصاراللہ یمن انتہائی اہم علاقوں کو آزاد کروانے میں کامیاب رہی ہے۔ صوبہ تعز کے علاقے، خاص طور پر المخا بندرگاہ اسٹریٹجک لحاظ سے بہت ہی اہم ہے۔ یہ بندرگاہ گذشتہ 9 سال سے جاری جنگ کے دوران انصاراللہ یمن کے مخالفین کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی آئی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ان کے پٹھو عناصر کے لیے آنے والے تمام تر اسلحہ اور فوجی سازوسامان المخا کے ذریعے ہی آتا تھا اور وہیں موجود گوداموں میں اس کے ذخیرے بھی تھے۔ لہذا ان علاقوں پر انصاراللہ یمن کا قبضہ ایک خاص اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے کہ جنگ کا اگلا مرحلہ کیا ہو گا اور کیا انصاراللہ یمن دو مزید قدم اٹھا کر پورے یمن کو ایک حکمرانی کے تحت لانے کا ارادہ رکھتی ہے یا اس کا اسٹریٹجک ہدف صرف آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر پر کنٹرول تک ہی محدود ہے۔ فی الحال اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انصاراللہ یمن کا اصل ہدف کیا ہے اور وہ کیا کرنے کے درپے ہے؟
انصاراللہ یمن نے ایک دو دن کے اندر اندر 7 بڑی اور اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں جو درج ذیل ہیں:
1)۔ آبنائے باب المندب کے جنوبی حصے، بحر ہند اور اسکوترا سمیت اہم جزیروں حتی ڈیاگو گارسیا جزیرے پر دباو ڈالنے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
2)۔ افریقہ سینگ (ہارن) کے خطے میں موجود اسرائیل کے پٹھو عناصر پر دباو ڈالنے کی پوزیشن بھی حاصل کر لی ہے۔ یعنی یمن کے حوثی مجاہدین اس وقت افریقی سینگ کے علاقے میں بھی موثر انداز میں کردار ادا کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔
3)۔ پورے عرب جزیرے کی نسبت ایک اسٹریٹجک پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے پیش نظر آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر پر کنٹرول عرب جزیرے کی سیکورٹی اور اقتصادی مساواتوں پر انتہائی موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
4)۔ کینال سوئز پر موثر واقع ہونے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں اب انصاراللہ یمن اور مصر کے تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
5)۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کو شدید سیکورٹی دھچکہ پہنچا ہے کیونکہ انصاراللہ یمن کے اثرورسوخ کا دائرہ اب بحر قلزم تک پھیل چکا ہے۔
6)۔ عالمی جہازرانی پر بھی انصاراللہ یمن کا کنٹرول برقرار ہو چکا ہے۔
7)۔ گذشتہ ہفتے پیر سے جمعرات تک جو کچھ بھی ہوا ہے وہ یمن کے حوثی مجاہدین کی عظیم اسٹریٹجک کامیابی ہے اور اب خطے کی تاریخ کا نیا باب کھل چکا ہے۔
